لاہور: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہفتے کے روز کہا کہ سیاسی اختلافات اور احساسِ محرومی کو تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے صوبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تعلیم، مذاکرات اور جمہوری عمل کو فروغ دینے پر زور دیا۔
لاہور میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کے مساوی حقوق رکھنے والے شہری ہیں اور ترقی، غربت اور مواقع تک رسائی سے متعلق ان کے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان کے ساتھ ہماری وفاداری غیر مشروط ہے۔‘‘ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ صوبے کے مسائل سیاسی اور آئینی طریقوں سے حل کیے جانے چاہییں۔
سرفراز بگٹی نے بلوچستان کو درپیش تین بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں تشدد کو جائز قرار دینے والے بیانیے، مسلح دہشت گردی اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی سوچ پر اثرانداز ہونے کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے بعض گروہوں پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی شکایات اور محرومیوں کو علیحدگی پسند تشدد کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت، پسماندگی اور سیاسی محرومی جیسے مسائل کو حملوں کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں پر بھی زور دیا کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ حقائق کی بنیاد پر لیں اور ایسے بیانیوں سے گریز کریں جو تشدد کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بلوچستان طویل عرصے سے سلامتی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ان میں دہشت گرد حملے، وسائل کی تقسیم پر اختلافات، معاشی مواقع کی کمی اور سیاسی نمائندگی بڑھانے کے مطالبات شامل ہیں۔
صوبے میں کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند مسلح تحریکیں سرگرم رہی ہیں، جبکہ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جبری گمشدگیوں، انصاف تک رسائی اور سکیورٹی کارروائیوں سے متاثرہ آبادیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
ان مسائل کے باعث صوبے میں بدامنی کی وجوہات سے متعلق مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔
حکومتی عہدیدار انسدادِ دہشت گردی اور ترقیاتی اقدامات پر زور دیتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاسی نمائندے زیادہ مؤثر احتساب، سیاسی شمولیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کے کردار پر خصوصی توجہ دی۔ صوبائی حکومت مسلح تنظیموں میں نوجوانوں کی بھرتی روکنے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلائے جانے والے بیانیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کی جائز شکایات دور کرنے کے لیے مسلح تصادم کے بجائے جمہوری اداروں کے ذریعے سیاسی عمل میں شرکت ضروری ہے۔
ان کے خطاب میں بلوچستان کے ترقیاتی اور سیاسی مسائل کے حل، دہشت گردی سے نمٹنے اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے جیسے چیلنجز کو اجاگر کیا گیا۔





