بنوں: ضلعی انتظامیہ نے پولیو سے بچاؤ کی مہم کے پیش نظر اتوار، یکم نومبر کو ضلع بھر میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، اسلحے کی نمائش اور گاڑیوں میں کالے شیشوں کے استعمال پر ایک ہفتے کے لیے پابندی عائد کر دی۔ پولیو مہم 2 سے 5 نومبر تک جاری رہے گی۔
ڈپٹی کمشنر بنوں ضیاء الرحمٰن خٹک نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کی جانب سے پیش کردہ سیکیورٹی جائزے کے بعد ہفتے کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت پابندی کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔
پابندیوں کا اطلاق اتوار سے ہوا اور یہ 7 نومبر تک پورے ضلع میں نافذ رہیں گی۔
حکم نامے کے مطابق پولیس نے ماضی میں پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر ہونے والے حملوں اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کی سفارش کی تھی۔
دفعہ 144 کے تحت ضلعی انتظامیہ کو عوامی تحفظ کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی سرگرمیوں پر عارضی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
حکم نامے کے تحت موٹر سائیکل پر ایک سے زیادہ افراد کے سفر، عوامی مقامات پر اسلحے کی نمائش اور کالے شیشوں والی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
تاہم پولیو مہم کے دوران سرکاری فرائض انجام دینے والے پٹواریوں اور یونین کونسل سیکریٹریوں کو اسلحے کی نمائش سے متعلق پابندی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جو سرکاری حکام کے جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔
2 لاکھ 28 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف
ڈپٹی کمشنر ضیاء الرحمٰن خٹک اور ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور نے اتوار کو بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق محکمہ صحت کی ٹیموں نے بنوں کی 57 یونین کونسلوں میں پانچ سال سے کم عمر کے 2 لاکھ 28 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
چار روزہ مہم کے دوران پولیو ورکرز اور ان کے ساتھ تعینات پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
بنوں میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا
پاکستان میں رواں سال 2026 کے دوران اب تک پولیو کے سات کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے چار کا تعلق بنوں ڈویژن سے ہے۔ یہ تعداد ملک میں رپورٹ ہونے والے مجموعی کیسز کے نصف سے زیادہ ہے۔
ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بار بار حفاظتی ٹیکوں کی مہمات کے باوجود علاقے میں پولیو وائرس کی منتقلی جاری ہے۔
صحت کے حکام کے مطابق بنوں ڈویژن میں سیکیورٹی صورتحال اور انتظامی مشکلات کے باعث بچوں تک مسلسل رسائی اور انہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی بنوں ڈویژن میں سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کو مؤثر انداز میں پولیو مہم چلانے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو خصوصاً بچوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ ویکسینیشن اس بیماری سے بچاؤ اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر مسلسل گردش کر رہا ہے۔
بنوں میں عائد پابندیوں کا مقصد پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی خطرات کو کم کرنا ہے، تاہم ان کی مؤثریت کا انحصار پابندیوں پر عمل درآمد اور پولیو ٹیموں کی مقررہ ہدف کے مطابق بچوں تک رسائی پر ہوگا۔
ضلعی انتظامیہ نے تاحال یہ اعلان نہیں کیا کہ 7 نومبر کے بعد پابندیوں میں توسیع کی جائے گی یا نہیں۔





