.اسلام آباد: پاکستان نے اتوار، یکم نومبر کو گروپ آف 24 (جی 24) کی صدارت سنبھال لی۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اس منصب کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اصلاحات اور ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ترقیاتی فنڈنگ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے گا۔
1971 میں قائم ہونے والا جی 24 ایک بین الحکومتی فورم ہے جو بین الاقوامی مالیاتی، معاشی اور ترقیاتی امور پر ترقی پذیر ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، خصوصاً بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے کہا کہ جی 24 کی صدارت پاکستان کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے، جس کے تحت ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے اور عالمی معاشی پالیسی سازی میں ان کے مسائل کو زیادہ اہمیت دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا، ’’ترقی پذیر معیشتوں کا مستقبل عالمی معیشت کے مستقبل سے الگ نہیں بلکہ اس کا مرکزی حصہ ہے۔‘‘
پاکستان نے جی 24 کی صدارت نائیجیریا سے سنبھالی ہے۔ محمد اورنگزیب نے نائیجیریا کی قیادت کو سراہتے ہوئے گروپ کی سابقہ پیش رفت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان کی تین اہم ترجیحات
وزیر خزانہ نے پاکستان کے دورِ صدارت کے لیے تین بنیادی ترجیحات کا اعلان کیا، جن میں عالمی معاشی پالیسی سازی میں ترقی کو مرکزی حیثیت دینا، کثیرالجہتی اداروں کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ایسی اصلاحات لانا شامل ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔
پہلی ترجیح کے تحت محمد اورنگزیب نے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے فروغ کے لیے مجموعی معاشی استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک کو ایسے معاشی حالات فراہم کرنے کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر طویل مدتی معاشی ترقی حاصل کر سکیں۔
دوسری ترجیح بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً بریٹن ووڈز نظام کے تحت قائم ہونے والے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات سے متعلق ہے۔
پاکستان ان اداروں کی فیصلہ سازی میں ترقی پذیر معیشتوں کی نمائندگی بڑھانے اور ان کی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر پالیسیاں اختیار کرنے کی حمایت کرے گا۔
تیسری ترجیح ترقیاتی فنڈنگ تک رسائی بہتر بنانے، قرضوں کے بوجھ سے نمٹنے اور معاشی و موسمیاتی بحرانوں کے مقابلے کے لیے مالیاتی تحفظ مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
محمد اورنگزیب نے ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جی 24 کی صدارت پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
جی 24 ترقی پذیر ممالک کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ بین الاقوامی مالیاتی پالیسیوں، قرضوں کی فراہمی، قرضوں کی تنظیمِ نو اور کثیرالجہتی اداروں میں مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق مشترکہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ گروپ آئی ایم ایف یا عالمی بینک کے قرضوں سے متعلق فیصلوں کو براہِ راست کنٹرول نہیں کرتا، تاہم اس کے مشترکہ مؤقف سے مالیاتی اصلاحات، ترقیاتی فنڈنگ کی ترجیحات اور بین الاقوامی اداروں کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مباحث پر اثر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان نے ایسے وقت میں جی 24 کی صدارت سنبھالی ہے جب ملک معاشی استحکام اور اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کے ساتھ ترقیاتی فنڈنگ کی ضروریات اور موسمیاتی آفات کے خطرات کا بھی سامنا کر رہا ہے۔
پاکستان ادائیگیوں کے توازن سے متعلق دباؤ پر قابو پانے کے لیے آئی ایم ایف کے معاونتی پروگراموں پر انحصار کرتا رہا ہے اور سیلاب سمیت دیگر موسمیاتی آفات کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی ضرورت بھی بارہا اجاگر کر چکا ہے۔
یہ تجربات محمد اورنگزیب کی بیان کردہ ترجیحات سے براہِ راست متعلق ہیں، خصوصاً ترقیاتی فنڈنگ کی دستیابی، قرضوں کی پائیداری اور معاشی اصلاحات کرنے والے ممالک کو پالیسی سازی میں مناسب گنجائش فراہم کرنے کے حوالے سے۔
تاہم جی 24 کی تجاویز کو عملی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے آئی ایم ایف، عالمی بینک، ان کے رکن ممالک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون ضروری ہوگا۔
ان اداروں میں ووٹنگ کے نظام، قرضوں کی پالیسیوں اور مالی وسائل سے متعلق فیصلے ان کے اپنے انتظامی اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کے تحت کیے جاتے ہیں۔
ترقی پذیر معیشتوں کے ساتھ تعاون
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین خطے سے تعلق رکھنے والے جی 24 کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر معاشی اور مالیاتی معاملات پر مشترکہ مؤقف تشکیل دے گا۔
انہوں نے ترقیاتی فنڈنگ کی کمی، موسمیاتی بحرانوں اور عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی تقسیم جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کی حکمت عملی جی 24 کے مشاورت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں کے مطابق ہوگی، جبکہ توجہ محض پالیسی بیانات کے بجائے عملی نتائج حاصل کرنے پر مرکوز رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری اجتماعی قیادت کی کامیابی کا اصل معیار صرف ہماری آواز کی طاقت نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ اس آواز سے کتنی حقیقی تبدیلی آتی ہے۔‘‘
وزیراعظم شہباز شریف کا خیرمقدم
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے جی 24 کی صدارت سنبھالنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سفارتی کامیابی اور عالمی مالیاتی اصلاحات سے متعلق مباحث میں کردار ادا کرنے کا موقع قرار دیا۔
وزیراعظم آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس منصب کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل تک منصفانہ رسائی اور ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ترقی کے مواقع بڑھانے کی حمایت کرے گا۔
وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے حالیہ سالانہ اجلاسوں کے دوران سفارتی سرگرمیوں پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
حکومت نے تاحال جی 24 کی صدارت کے تحت مخصوص اصلاحاتی تجاویز، مالیاتی وعدوں یا اعلان کردہ ترجیحات پر عمل درآمد کے لیے کسی باقاعدہ ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔
اس لیے پاکستان کی پیش رفت کا انحصار جی 24 کے رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی پالیسیوں سے متعلق فیصلے کرنے والے اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون قائم کرنے پر ہوگا۔





