پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے جامع حفاظتی معائنے کا حکم دے دیا ہے۔
صوبائی محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ہدایات میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو ہر ضلع میں ماہر تکنیکی ٹیمیں تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے، جو تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی ساخت اور مضبوطی کا جائزہ لیں گی۔
یہ فیصلہ الخیر ایجوکیشن سسٹم میں ایک کلاس روم کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں طلبہ اور ایک استاد سمیت کم از کم 31 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
سرکاری ہدایات کے مطابق معائنہ ٹیمیں اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارتوں کے دیگر حصوں کا تفصیلی جائزہ لیں گی تاکہ تعمیراتی نقائص، خستہ حالی اور ممکنہ حفاظتی خطرات کی نشاندہی کی جا سکے۔
معائنے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلے زمرے میں محفوظ عمارتیں، دوسرے میں مرمت یا بہتری کی ضرورت والی عمارتیں، جبکہ تیسرے زمرے میں ایسی ممکنہ طور پر غیر محفوظ عمارتیں شامل ہوں گی جن کا فوری تکنیکی جائزہ ضروری ہوگا۔
تکنیکی ٹیمیں ضروری مرمت، عمارتوں کی مضبوطی اور بحالی کے اقدامات بھی تجویز کریں گی، جبکہ ان پر عمل درآمد کی ترجیحات اور مدت کا تعین بھی کیا جائے گا۔
جن عمارتوں سے طلبہ یا عملے کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہوگا، ان کے بارے میں متعلقہ ضلعی حکام کو بلا تاخیر آگاہ کرنا ہوگا۔ حکام کو ایسی عمارتوں میں داخلے پر پابندی لگانے یا ضرورت پڑنے پر ان کا استعمال عارضی طور پر معطل کرنے جیسے احتیاطی اقدامات تجویز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ حفاظتی معائنہ لڑکوں اور لڑکیوں کے تمام سرکاری اسکولوں میں کیا جائے گا، جبکہ تکنیکی ٹیمیں متعلقہ ضلعی تعلیمی افسران کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہیں گی۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 26 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے تک تمام اضلاع کی جامع معائنہ رپورٹس جمع کرائے۔ ان رپورٹس میں عمارتوں کے تعمیراتی نقائص، حفاظتی درجہ بندی اور ضروری اصلاحی اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
حکام ہر معائنہ شدہ اسکول کے لیے بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) بھی جاری کریں گے، جس میں واضح کیا جائے گا کہ آیا عمارت مزید استعمال کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے خلاف فوری حفاظتی اقدامات کے لیے صوبے بھر میں معائنے کی تکمیل کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے تصدیق کی ہے کہ چھت گرنے کے واقعے کے بعد نجی اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اسکول کی چھت ناقص انداز میں تعمیر کی گئی تھی، جبکہ عمارت کے اردگرد تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ اطلاعات کے مطابق اسکول میں 110 بچے زیر تعلیم تھے۔
صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات اور چھت گرنے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک حقائق جاننے والی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
اس سانحے نے صوبے بھر میں اسکولوں کی عمارتوں کی حالت اور تعمیراتی حفاظتی معیارات سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے بعد حکام نے عمارتوں کے تکنیکی معائنے اور ممکنہ حادثات کی روک تھام کے لیے احتیاطی اقدامات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔





