اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے جمعہ کو 27 ستمبر کے لیے طے شدہ ملک گیر احتجاجی مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق مارچ پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا اور اس کا بنیادی مطالبہ پارٹی بانی عمران خان کی رہائی ہوگا۔
پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جلد نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
رہنما کے مطابق مارچ مؤخر کرنے کی ایک تجویز کا مقصد وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ برقرار رکھنا تھا، جو پہلے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی میں راستے بند کرکے بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کرچکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی کے وسیع انتظامات اور سرکاری اخراجات کے باعث پارٹی کا ایک مقصد پہلے ہی حاصل ہوچکا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اس فیصلے کا جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف مارچ ملتوی کرنے سے کوئی تعلق نہیں اور تحریک انصاف اپنا احتجاج آزادانہ طور پر منعقد کرسکتی ہے۔
یہ پیش رفت مارچ ملتوی کرنے کے معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف بیانات سامنے آنے کے ایک روز بعد ہوئی۔ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے کہا تھا کہ اگر حکومت چھ سے آٹھ ماہ کے اندر انتخابات، عمران خان سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 9 مئی و 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات پر آمادہ ہوجائے تو احتجاج مؤخر کیا جاسکتا ہے۔
تاہم پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے ایسی کسی تجویز پر مشاورت کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارچ ملتوی کرنے کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے۔
وفاقی حکومت نے 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک اسلام آباد اور پنجاب کے متعدد اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔ پنجاب حکومت نے 27 ستمبر کو راولپنڈی اور اٹک کے منتخب مقامات پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس محدود کرنے کی درخواست کی تھی۔
مارچ ملتوی ہونے کے بعد ان پابندیوں اور سکیورٹی اقدامات میں تبدیلی کے بارے میں فوری طور پر کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔





