اسلام آباد: علاقائی الیکشن کمشنر نے وفاقی دارالحکومت کی 130 یونین کونسلوں اور ان کے بلاکس کی حلقہ بندیوں پر تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے مقرر کردہ حدود برقرار رکھی ہیں۔
حلقہ بندیوں کی اپیلٹ اتھارٹی کے طور پر کمشنر نے اعتراضات خارج کرنے کے احکامات جاری کیے اور حلقہ بندیوں کے فیصلے درست قرار دیے۔
اس فیصلے کے بعد اپیلٹ مرحلے پر تمام 130 یونین کونسلوں کی حدود حتمی ہوگئی ہیں۔ مکمل رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھیجے جانے کے بعد حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
اسلام آباد کے نئے بلدیاتی قانون کے تحت دارالحکومت میں تین میونسپل ٹاؤن کارپوریشنز ہوں گی، جن کے تین میئر اور چھ ڈپٹی میئر ہوں گے۔
قومی اسمبلی کے ہر حلقے میں ایک میونسپل ٹاؤن کارپوریشن قائم ہوگی۔ انہیں میونسپل ٹاؤن کارپوریشن اول، دوم اور سوم کا نام دیا گیا ہے۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے راولپنڈی اور مری میں یونین کونسلوں اور کونسلر بلاکس کی حلقہ بندیوں کے خلاف 27 اپیلیں دوبارہ سماعت کے لیے ضلعی الیکشن کمیشن راولپنڈی کو واپس بھیج دی ہیں۔
یہ اپیلیں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے دائر کی تھیں۔
عدالت نے انتخابی حکام کو ہدایت دی کہ تمام درخواست گزاروں کو سنا جائے اور ہر معاملے کے میرٹ اور متعلقہ علاقائی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے فیصلے کیے جائیں۔
ضلعی الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسے عدالتی فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کو آئندہ ہفتے نوٹس جاری کیے جائیں گے اور ہر کیس کی الگ سماعت کے بعد فیصلہ ہوگا۔
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026 کے تحت راولپنڈی شہر کو بھی دو میونسپل ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے دو میئر اور چار ڈپٹی میئر ہوں گے۔
راولپنڈی ضلع کے انتظامی ڈھانچے میں مجموعی طور پر 17 ادارے شامل ہیں۔ ان میں دو ٹاؤن کارپوریشنز، پانچ میونسپل کمیٹیاں، چھ تحصیل کونسلیں اور چار کنٹونمنٹ بورڈز ہیں۔





