دوحہ: ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے سے روکنے کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں نے ہفتے کے روز دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی، جس میں ممکنہ سفارتی حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب واشنگٹن رواں ہفتے ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے مذاکرات سے آگاہ ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات سے قبل جمعے کو تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان 12 گھنٹے سے زائد بات چیت ہوئی تھی۔ سفارتی کوششوں کے دوران قطر واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کے انتخابات کے بعد ایران پر مزید حملوں کی منظوری دے سکتے ہیں۔ تہران خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کے جواب میں پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ تنازعے کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔
اٹلانٹا میں جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ معاہدے کے لیے وقت مقرر کرنے سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا، ’’مذاکرات کے کئی سلسلے جاری ہیں۔ درحقیقت بات چیت کبھی بند ہی نہیں ہوئی۔‘‘
رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ذریعے نے بتایا کہ قطر نے گزشتہ ہفتے تہران کو سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت ایران اور امریکا وسیع تر مذاکرات سے پہلے روزانہ کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات کریں گے۔
تاہم ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے جمعے کو رائٹرز کو بتایا کہ تہران اس تجویز کو اطمینان بخش نہیں سمجھتا۔
ایران نے بھی سات روزہ منصوبہ پیش کر رکھا ہے، جس میں واشنگٹن سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایران کے حمایت یافتہ انتظام کی منظوری دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایرانی تجویز کے مطابق ان شرائط کی تکمیل کے بعد تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ اب تک ان شرائط کو مسترد کرتی آئی ہے۔
آبنائے ہرمز اس تنازعے میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ خلیج کو بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں سے ملاتی ہے اور دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
اس آبی گزرگاہ پر بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے اثرات علاقائی توانائی کی برآمدات اور عالمی رسد کے نظام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز الجزیرہ کی رپورٹ کردہ گفتگو میں کہا کہ تہران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو بھیجے گئے خط کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس خط کے بارے میں نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل پہلے ہی رپورٹ کر چکے ہیں کہ اس کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔
تاہم صدر ٹرمپ نے بعد میں خط کی سفارتی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کو طبی سامان کی فراہمی سے متعلق بات چیت کی اجازت دی تھی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کے روز مسلح افواج کو ممکنہ حملوں کے مقابلے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔
اپنے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں خامنہ ای نے کسی بھی خطرے کا فوری جواب دینے پر زور دیا اور کہا کہ فوجی کمانڈروں نے آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں افواج کی تیاری سے متعلق رپورٹ دی ہے۔
بعد ازاں ایرانی فوجی حکام نے بھی دفاعی اور عملی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا۔
ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی نے کہا کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو ایران جوہری ہتھیاروں پر اپنی دیرینہ پابندی پر نظرثانی کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک واشنگٹن تہران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔
حالیہ سفارتی رابطے فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سامنے آئے ہیں، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
اگرچہ حالیہ ہفتوں میں امریکا نے ایران پر مزید حملے مؤخر کیے ہیں، تاہم دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان خطے کی حکومتوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
قطر کی ثالثی واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ فراہم کر رہی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان رعایتوں کی ترتیب، بحری راستوں تک رسائی اور جوہری پابندیوں کے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات کے بعد کسی معاہدے یا بات چیت کے اگلے مرحلے کے لیے وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔





