پیرس: کم عمر لڑکیوں کے آن لائن استحصال میں ملوث ایک مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کی قیادت کے الزام میں بھارتی شہری کے خلاف پیرس میں مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ متاثرین اور شواہد کی حساس نوعیت کے باعث عدالتی کارروائی بند کمرے میں کی جا رہی ہے۔
فرانسیسی تفتیش کار 29 سالہ کو "CVLT" نامی ایک آن لائن گروپ کا مبینہ سربراہ قرار دیتے ہیں۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک نے مختلف ممالک میں متعدد لڑکیوں کو نشانہ بنایا، جن میں بڑی تعداد کم عمر لڑکیوں کی تھی۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک سے منسلک افراد جرمنی، نیوزی لینڈ اور امریکا سمیت مختلف ممالک میں موجود تھے اور آن لائن رابطے میں رہتے تھے۔ حکام کا الزام ہے کہ گروپ نو نازی، نسل پرستانہ اور یہود مخالف نظریات کے ساتھ خواتین، حقوقِ نسواں کے حامیوں اور ایل جی بی ٹی پلس افراد کے خلاف نفرت انگیز خیالات کو بھی فروغ دیتا تھا۔
ملزم تعلیم حاصل کرنے کے لیے فرانس آیا تھا، جہاں اس نے جنوب مشرقی شہر انتیب کے ایک بزنس اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں فٹنس کوچ کے طور پر کام کیا۔ اسے 2021 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کے خلاف کم عمر افراد پر مبینہ تشدد، منظم بھتہ خوری اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی ترسیل سمیت کئی سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ سنگین ترین الزامات ثابت ہونے کی صورت میں اسے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس معاملے کی تحقیقات نومبر 2020 میں اس وقت شروع ہوئیں جب امریکا کے نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن نے ایک بچے کے مبینہ آن لائن استحصال سے متعلق حکام کو اطلاع دی۔
پانچ امریکی خواتین، جن کی موجودہ عمریں 18 سے 21 سال کے درمیان ہیں، اس مقدمے میں سول فریق کے طور پر شامل ہوئی ہیں اور توقع ہے کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے بیانات ریکارڈ کرائیں گی۔
پیرس کی عدالت نے مقدمے کی کارروائی بند کمرے میں کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق اس فیصلے کی ایک وجہ پیش کیے جانے والے شواہد کی انتہائی حساس نوعیت ہے، جبکہ نیٹ ورک سے وابستہ افراد پر متاثرین، گواہوں اور امریکی پراسیکیوٹرز کو مبینہ طور پر دھمکانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
پانچ امریکی خواتین کے وکیل نے مقدمے کی کھلی سماعت کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر نوعمر لڑکیوں کو درپیش خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی ضروری ہے۔ تاہم استغاثہ نے متاثرین کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون سمیت دیگر وجوہات کی بنیاد پر بند کمرے میں سماعت کی حمایت کی۔
مقدمے کی سماعت جمعہ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ روہن رانے کے خلاف عائد الزامات پر حتمی فیصلہ فرانسیسی عدالت کرے گی۔




