بینکاک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو کہا کہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کے غیر متناسب اثرات کے باوجود کئی مقروض ترقی پذیر ممالک کے پاس اخراجات کم کرنے کی گنجائش سے ہٹ کر محدود راستے ہیں۔
آئی ایم ایف کے شعبۂ تحقیق کی ڈپٹی ڈائریکٹر پیٹیا کویوا بروکس نے اے ایف پی کو بتایا کہ مسلسل معاشی بحرانوں سے قرض بڑھا ہے، جبکہ مہنگائی حکومتوں کی گھرانوں کو مدد فراہم کرنے کی صلاحیت محدود کر رہی ہے۔
ادارے کے سالانہ اجلاسوں کے دوران انہوں نے کہا کہ تیل درآمد کرنے والے کمزور ممالک کے لیے فیصلے زیادہ مشکل ہیں، کیونکہ وہاں خوراک اور توانائی گھریلو اخراجات کا بڑا حصہ ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق جنگ نے تیل اور گیس کی رسد متاثر کی اور توانائی کی قیمتیں بڑھائیں۔ ان اضافوں کا اثر دیگر اشیا تک پہنچ رہا ہے، جبکہ کھاد کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
آئی ایم ایف نے محدود اور ہدفی سبسڈی کے ساتھ مالی گنجائش بحال کرنے اور قرض سے متعلق خطرات کم کرنے کی سفارش کی ہے۔
کویوا بروکس نے کہا کہ جہاں قرض کی ادائیگی پائیدار نہ رہے، وہاں بروقت تنظیم نو کی طرف جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر سے اس عمل کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
ادارے کی عالمی معاشی جائزہ رپورٹ نے تیل درآمد کرنے والی ایسی ترقی پذیر معیشتوں کو زیادہ کمزور قرار دیا جو مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی لہر سے فائدہ نہیں اٹھا رہیں۔
معاشی امکانات یکساں نہیں ہیں۔ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بعض معیشتوں کو سہارا دے رہی ہے، جبکہ دیگر پر درآمدی اخراجات کا دباؤ ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں کی 2026 میں ترقی کی شرح 2.1 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔
کویوا بروکس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سست ہونے سے امریکہ اور تجارتی روابط کے ذریعے ایشیا کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے شدید ایل نینو سے غذائی قیمتوں پر مزید دباؤ کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔ چاول اور مشروبات کی بعض قیمتوں میں اضافہ تخمینوں میں شامل ہے، تاہم مزید اثرات موجودہ اندازوں سے زیادہ ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا۔





