اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو وفاقی دارالحکومت کے تمام شیشہ کیفے نئے قواعد بننے تک بند کرنے اور پہلے سے جاری کردہ این او سیز واپس لینے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے غیر قانونی شیشہ مراکز کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ہدایات جاری کیں۔ تفصیلی تحریری حکم بعد میں جاری ہوگا۔
ضلعی انتظامیہ نے ای الیون میں چار کیفے سیل کرکے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو کارروائی کی ہدایت کی۔ حکم کا اطلاق بند عمارتوں اور کھلی جگہوں پر قائم شیشہ کیفوں پر ہوگا۔
گزشتہ سماعت میں حکومتی وکیل نے بتایا تھا کہ مجوزہ قواعد منظوری کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔ عدالت نے ضابطوں کی عدم موجودگی میں کیفوں کے کام جاری رکھنے پر سوال اٹھائے تھے۔
شیشے کے طبی نقصانات صرف تمباکو تک محدود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پانی سے گزرنے کے باوجود اس کے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ، دھاتیں اور سرطان پیدا کرنے والے کیمیائی مادے موجود رہتے ہیں۔ پانی دھوئیں کو محفوظ نہیں بناتا۔
شیشہ گرم کرنے والا کوئلہ بھی زہریلے مادے خارج کرتا ہے۔ قریب موجود افراد تمباکو اور کوئلے دونوں کا دھواں سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں، جس سے کیفے کے ملازمین اور دیگر گاہک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ دھواں خصوصاً بچوں اور دوران حمل نقصان دہ ہے۔
تمباکو والے شیشے میں نکوٹین ہوتی ہے، جو نشے کی عادت پیدا کرتی ہے۔ اس کا استعمال سانس کی بیماریوں، امراض قلب اور سرطان سے وابستہ ہے۔ طویل نشستوں میں دھوئیں کی خاصی مقدار جسم میں داخل ہو سکتی ہے۔





