اٹلانٹا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جمعے کو جی 20 وزرائے خارجہ کی میزبانی کریں گے، جہاں ایران اور یوکرین کی جنگوں پر اختلافات کے دوران توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں پر گفتگو متوقع ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ میں یہ تفصیلات بتائی گئیں۔
امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں اجلاس وسط مدتی انتخابات سے چند روز پہلے ہورہا ہے۔ یہ دسمبر میں میامی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈورال ریزورٹ پر ہونے والے سربراہی اجلاس کی تیاری کا حصہ ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف شرکت کررہے ہیں، جبکہ چین وزیر خارجہ وانگ یی کی جگہ ان کے نائب کو بھیج رہا ہے۔
توانائی اور سمندری تجارت پر گفتگو
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اجلاس میں توانائی کی فراہمی، سامان کی رسد میں مشکلات اور عالمی کشیدگی کے معاشی سلامتی پر اثرات زیر بحث آئیں گے۔
واشنگٹن اہم سمندری راستوں کو تجارتی آمدورفت کے لیے خطرات یا راہداری فیس کے بغیر کھلا رکھنے پر بھی گفتگو چاہتا ہے۔
ایران کے ساتھ تنازع اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے کے دوران توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم سمندری راستہ ہے۔
اجلاس میں جہاز رانی کی آزادی پر بھی بات متوقع ہے۔ اس سے مراد بین الاقوامی قانون کے مطابق سمندری راستوں سے جہازوں کی آمدورفت ہے۔ چین نے جی 20 وزرائے خزانہ کے ایک سابقہ اجلاس میں ہرمز اور دیگر سمندری راستوں پر جہاز رانی سے متعلق مجوزہ عبارت پر اعتراض کیا تھا۔
لاوروف کی شرکت اہم
روبیو اور لاوروف کا متوقع آمنا سامنا نومبر میں ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے درمیان مجوزہ مذاکرات سے پہلے ہورہا ہے۔
بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنے والے لاوروف سے توقع ہے کہ وہ اجلاس میں ان پابندیوں کی مخالفت کریں گے۔ ان کی شرکت ایسے وقت ہورہی ہے جب امریکا یوکرین سے متعلق سفارت کاری کے ساتھ ایندھن کی فراہمی میں روس کا تعاون بھی چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں ماسکو پر بعض پابندیاں نرم کی ہیں اور امریکی صارفین پر بڑھتی قیمتوں کے دباؤ کے دوران روسی ڈیزل کی فروخت کے انتظام کو نمایاں کیا ہے۔
واشنگٹن نے رواں سال جی 20 کی سرگرمیوں میں روسی حکام کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ رکن ملک جنوبی افریقہ کو شرکت سے باہر رکھا ہے۔ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو دسمبر کے سربراہی اجلاس میں بھی مدعو کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے امکانات محدود
ایک سفارتی ذریعے نے کہا کہ گہرے اختلافات کے باعث مشترکہ بیان پر اتفاق مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ذریعے کے مطابق اس کے بجائے امریکا کی جانب سے اجلاس کی صدارت کا خلاصہ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
مشترکہ اعلامیہ شریک ارکان کے متفقہ مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ میزبان کا جاری کردہ خلاصہ گفتگو کی اس کی اپنی روداد ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ تمام ارکان اس سے متفق ہوں۔
جی 20 بڑی معیشتوں کا فورم ہے جو بین الاقوامی اقتصادی تعاون پر گفتگو کرتا ہے۔ اٹلانٹا اجلاس میں یہ دیکھا جائے گا کہ جاری تنازعات پر اختلافات کے باوجود توانائی اور تجارت کے معاملات میں کس حد تک تعاون ممکن ہے۔





