کھٹمنڈو: نیپال میں دریائے بوڑھی گنڈکی میں آنے والے اچانک سیلاب کے باعث گورکھا کے قریب کم از کم 150 مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ متعدد پل سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ یہ بات ایک مقامی عہدیدار نے بتائی۔
دریا میں طغیانی کے باعث سیلابی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا، جس سے مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں متاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پانی کے تیز بہاؤ میں کئی مکانات بہہ گئے۔
ایک مقامی عہدیدار نے تصدیق کی کہ سیلاب سے کم از کم 150 مکانات متاثر ہوئے ہیں اور متعدد پل بھی بہہ گئے ہیں۔
پلوں کو پہنچنے والے نقصان سے علاقے میں آمدورفت کا نظام متاثر ہوا ہے، تاہم نقل و حمل میں رکاوٹوں کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
یہ سیلاب نیپال میں دریاؤں کے باعث ہونے والی تباہی کا ایک اور واقعہ ہے، جہاں دریاؤں کے قریب آباد بستیاں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے دوران سیلاب کے خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔
حکام نے تاحال سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں، لوگوں کے انخلا یا بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
نقصانات کی مکمل نوعیت اور حجم ابھی واضح نہیں ہو سکا، جبکہ مقامی حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔کھٹمنڈو: نیپال میں دریائے بوڑھی گنڈکی میں آنے والے اچانک سیلاب کے باعث گورکھا کے قریب کم از کم 150 مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ متعدد پل سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ یہ بات ایک مقامی عہدیدار نے بتائی۔
دریا میں طغیانی کے باعث سیلابی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا، جس سے مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں متاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پانی کے تیز بہاؤ میں کئی مکانات بہہ گئے۔
ایک مقامی عہدیدار نے تصدیق کی کہ سیلاب سے کم از کم 150 مکانات متاثر ہوئے ہیں اور متعدد پل بھی بہہ گئے ہیں۔
پلوں کو پہنچنے والے نقصان سے علاقے میں آمدورفت کا نظام متاثر ہوا ہے، تاہم نقل و حمل میں رکاوٹوں کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
یہ سیلاب نیپال میں دریاؤں کے باعث ہونے والی تباہی کا ایک اور واقعہ ہے، جہاں دریاؤں کے قریب آباد بستیاں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے دوران سیلاب کے خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔
حکام نے تاحال سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں، لوگوں کے انخلا یا بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
نقصانات کی مکمل نوعیت اور حجم ابھی واضح نہیں ہو سکا، جبکہ مقامی حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔





