کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع واشک میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
ذرائع نے کہا کہ آپریشن ردالفتنہ تھری کے تحت کارروائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔
اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ دہشت گردوں کا تعلق فتنۃ الہندوستان (ایف اے ایچ) سے تھا، جسے پہلے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے نام سے جانا جاتا تھا۔
صدر آصف علی زرداری نے ایکس پر جاری بیان میں کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و سلامتی متاثر کرنے اور عوام میں خوف پھیلانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رہیں گی۔
زرداری نے کہا کہ دہشت گردوں کے غیر ملکی سرپرستوں اور مقامی سہولت کاروں کی سازشیں ناکام بنائی جائیں گی۔
واشک کی کارروائی صوبے میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران رپورٹ ہونے والے دیگر آپریشنز کے بعد ہوئی ہے۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے کہا تھا کہ 10 اکتوبر کو بارکھان میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کی کارروائی میں 10 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ 29 ستمبر کو چاغی میں بھی دو شدت پسندوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے 27 ستمبر کو کہا تھا کہ شعبان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں 71 سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔
ستمبر کے دوران آواران، مستونگ، نوکچہ، چاغی، زیارت کراس اور پشین میں بھی کارروائیاں رپورٹ ہوئی تھیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق بلوچستان میں اگست کے دوران 89 شدت پسند حملے ہوئے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 83 تھی۔ یہ تقریباً سات فیصد اضافہ ہے۔
ادارے کے ماہانہ جائزے نے اس عرصے میں بلوچستان کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا۔





