بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں منگل، 13 اکتوبر کو دو الگ سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران پانچ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جس کی تصدیق پولیس اور مقامی ذرائع نے کی ہے۔
پولیس کے مطابق بنوں کینٹ تھانے کی حدود میں واقع کرم گڑھی مماند خیل کے علاقے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، ضلعی پولیس اور پاک فوج نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دو مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ علاقے میں موجود مشتبہ دہشت گرد ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ان اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی۔
پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے موقع پر پہنچنے پر مشتبہ افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے بھی کارروائی کی۔
بعد ازاں علاقے میں تلاشی کے دوران دو مشتبہ دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
سی ٹی ڈی نے ہلاک ہونے والے ایک مشتبہ شخص کی شناخت اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کے مقامی کمانڈر کے طور پر کی ہے، جو مبینہ طور پر ضلع بنوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔
حکام کے مطابق دوسرے ہلاک ہونے والے مشتبہ شخص کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب منگل کی صبح بنوں کے علاقے شبری کلا بھرت میں پولیس امن کمیٹی کے ساتھ ایک الگ جھڑپ کے دوران مزید تین مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب خیبر پختونخوا میں شدت پسند گروہوں کے خلاف سیکیورٹی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام مسلسل درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔





