جنیوا: عالمی موسمیاتی تنظیم نے جمعرات کو کہا کہ ایل نینو دسمبر میں اپنی شدت کی انتہا تک پہنچنے سے پہلے مزید مضبوط ہوگا اور ممکنہ طور پر کم از کم 1950 کے بعد کے شدید ترین واقعات میں شامل ہوسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا کہ اس کیفیت سے دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے۔ بارشوں کے معمولات میں تبدیلی بعض علاقوں میں خشک سالی اور دیگر میں سیلاب کا خطرہ بڑھائے گی۔
ایل نینو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خط استوا کے قریب وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کی سطح کا پانی غیر معمولی طور پر گرم ہوجاتا ہے۔ اس سے فضائی گردش تبدیل ہوتی ہے اور سمندر سے دور علاقوں میں بھی ہوائیں اور بارشیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ عموماً ہر دو سے سات سال بعد پیدا ہوتا اور نو سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ سیلیسٹ ساؤلو نے کہا کہ ایل نینو قائم ہوچکا ہے اور تیزی سے شدت اختیار کررہا ہے۔ فروری 2027 تک اس کے برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔
ادارے کے مطابق وسطی مشرقی بحرالکاہل میں سطح سمندر کا درجہ حرارت جون میں معمول سے 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا، جو اگست میں 2.5 ڈگری تک پہنچ گیا۔ اکتوبر سے دسمبر کے دوران یہ فرق تقریباً 3.7 ڈگری ہونے کی پیش گوئی ہے، جو 2015 اور 2016 کے 2.6 ڈگری کے سابق ریکارڈ سے زیادہ ہوگا۔
یہ اعدادوشمار سمندر کے ایک مخصوص حصے کے درجہ حرارت کو ظاہر کرتے ہیں، عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو نہیں۔
پیش گوئی 13 اہم قومی اور بین الاقوامی موسمیاتی مراکز کے جائزوں پر مبنی ہے۔
ساؤلو نے کہا کہ ایل نینو سمندر میں پہلے سے محفوظ حرارت فضا میں خارج کرتا ہے۔ سمندری درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر ہونے کے باعث خارج ہونے کے لیے زیادہ حرارت موجود ہے، جو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بڑھاتی ہے۔
بارشوں میں تبدیلی فصلوں، پانی کی دستیابی اور بجلی کی پیداوار کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ سیلاب گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ وسطی امریکا کے بعض علاقوں میں خشک سالی پہلے ہی فصلوں اور جانوروں کو متاثر کررہی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال زراعت، آبی انتظام اور آفات کی تیاری میں موسمی پیش گوئیوں کی نگرانی کو اہم بناتی ہے۔ تاہم عالمی پیش گوئی سے یہ طے نہیں ہوتا کہ پاکستان میں کب اور کہاں خشک سالی یا سیلاب آئے گا۔
عالمی درجہ حرارت پر اثر ایل نینو کی شدت کی انتہا کے بعد بھی ظاہر ہوسکتا ہے، اس لیے اس کا اثر دسمبر کے بعد جاری رہ سکتا ہے۔





