اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا کہ مشترکہ اہداف کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ پاکستان اپنی دو ہزار چھبیس سے دو ہزار ستائیس کی صدارت کے لیے تنظیم کی سرگرمیوں کا پروگرام ترتیب دے رہا ہے۔
وزارت خارجہ میں قومی رابطہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے ڈار نے پاکستان کی صدارت کا موضوع پیش کیا، جس میں علاقائی روابط، جدت اور مشترکہ خوشحالی کے ذریعے وژن کو عملی شکل دینے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے اگست دو ہزار ستائیس میں اسلام آباد میں مجوزہ سربراہی اجلاس کی تیاری کے لیے قریبی رابطہ کاری کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
قومی رابطہ کاروں کا اجلاس ان فیصلوں کی تیاری کا اہم مرحلہ ہے۔ یہ کونسل تنظیم کی معمول کی سرگرمیوں کو مربوط کرتی ہے اور سربراہان مملکت، سربراہان حکومت اور وزرائے خارجہ کے اجلاسوں کی تیاری کرتی ہے۔ اس کے ذریعے وسیع ترجیحات کو رکن ممالک کے متفقہ پروگرام میں ڈھالا جاتا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی ترجیحات میں بہتر علاقائی روابط، جدت، اقتصادی تعاون اور عوامی رابطے شامل ہیں۔ تنظیم کے سیکریٹریٹ کے مطابق موجودہ مشاورت میں دوشنبے میں آئندہ سربراہان حکومت کے اجلاس کی تیاری اور سیاسی، تجارتی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون بھی زیر بحث ہے۔
اجلاس میں تنظیم کے سیکریٹریٹ اور علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کے سینئر نمائندے بھی شریک ہوئے، جس سے اقتصادی اور سفارتی معاملات کے ساتھ سیکیورٹی تعاون بھی مشاورت کا حصہ بنا۔
ڈار نے باہمی اعتماد، مساوات، مشاورت اور مشترکہ ترقی پر مبنی کھلی اور تعمیری صدارت کا عزم ظاہر کیا۔ ان کی توجہ عملی نتائج پر رہی، تاکہ آئندہ برس سربراہی اجلاس سے پہلے مشترکہ ترجیحات پر ٹھوس اقدامات تیار کیے جاسکیں۔





