دوحہ: پاکستان اور قطر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی اور قطری ہم منصب شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کی ملاقات میں داخلی سلامتی کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے اور دوطرفہ سکیورٹی شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ملاقات دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم 2026 کے موقع پر ہوئی۔ محسن نقوی فورم میں شرکت اور بین الاقوامی ہم منصبوں سے سلامتی کے چیلنجز، علاقائی صورت حال اور سفارتی کوششوں پر مشاورت کے لیے قطر کا دورہ کررہے ہیں۔
شیخ خلیفہ، جو قطر کی داخلی سکیورٹی فورس ’’لخویا‘‘ کے کمانڈر بھی ہیں، نے محسن نقوی کے ساتھ موجودہ تعاون کا جائزہ لیا اور متعلقہ شعبوں میں اشتراک مزید بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق دونوں وزرا نے علاقائی امن و استحکام پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اپنی وزارتوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ قطری وزیر نے کہا کہ دوحہ اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
فورم میں محسن نقوی کی مصروفیات دوطرفہ سکیورٹی ملاقات تک محدود نہیں۔ پیر کو اس کے آٹھویں اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے تنازع سے پیدا ہونے والے خطرات مشرق وسطیٰ سے باہر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔
انہوں نے قطر کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی ہے۔
محسن نقوی نے اپریل میں اسلام آباد مذاکرات، جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور اس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسرن اجلاس میں پاکستان اور قطر کی بطور ثالث شرکت کا حوالہ دیا۔
انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کو دفاع کے لیے قائم انتظام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک میں تنازع جاری ہو تو پائیدار امن مشکل ہوجاتا ہے۔
دوطرفہ تعلقات کا وسیع دائرہ
وزرائے داخلہ کی ملاقات ایسے تعلقات کا تسلسل ہے جن میں سفارت کاری، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور روزگار کے روابط شامل ہیں۔
قطر پاکستان کو مائع قدرتی گیس، یعنی ایل این جی، فراہم کرنے والا اہم ملک ہے۔ توانائی دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان میں گیس کی طلب میں تبدیلی کے باعث طویل مدتی معاہدوں کے تحت ترسیل کے شیڈول پر بھی دونوں جانب بات چیت ہوتی رہی ہے۔
روزگار اور عوامی روابط بھی تعلقات کی اہم بنیاد ہیں۔ قطر میں مقیم پاکستانی کارکن اور ماہرین وہاں کی معیشت میں حصہ ڈالتے ہیں، جبکہ سرکاری سطح پر افرادی قوت، ہوا بازی، تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی میں تعاون بڑھانے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
دوحہ میں حالیہ گفتگو ان تعلقات کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں آگے بڑھاتی ہے، جہاں دونوں حکومتیں مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متعلق سفارتی کوششوں میں بھی شریک ہیں۔
فورم کے موقع پر دیگر ملاقاتیں
شیخ خلیفہ نے اسپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا گومیز، قبرص کے وزیر انصاف و امن عامہ کوستاس فتیریس اور اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل برائے تحفظ و سلامتی جینین ہینس پلاسخارٹ سے بھی الگ ملاقاتیں کیں۔
فراہم کردہ قطری بیان کے مطابق ان ملاقاتوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا، اسے مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔





