سانتیاگو: چلی کے دارالحکومت کے لاس کونڈیس علاقے میں سیلاب کے بعد حکام نے وجوہ اور ممکنہ ذمہ داریوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ نو اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق کم از کم چھ افراد زخمی اور 2000 سے زائد گھر متاثر ہوئے، جن میں 55 رہائش کے قابل نہیں رہے۔
استغاثہ اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ نکاسی آب کے مسائل یا حفاظتی اقدامات میں کوتاہی نے تباہی بڑھانے میں کردار ادا کیا یا نہیں۔
آٹھ اکتوبر کو پانی اور ملبے کے تیز بہاؤ نے گاڑیاں بہا دیں اور لوگوں کو گھروں سے نکلنا پڑا۔ امدادی اہلکاروں نے 1000 سے زائد افراد کو بچانے یا محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی اطلاع دی۔ ابتدائی سرکاری رپورٹ میں کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
صدر ہوزے انتونیو کاست نے لاس کونڈیس میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔ میئر کے مطابق چند دنوں میں 144 ملی میٹر بارش ہوئی، جو اکتوبر کی معمول کی بارش سے تقریباً نو گنا زیادہ تھی۔ مزید دس علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔
تحقیقات میں آبی گزرگاہوں اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ماہرین نے پہلے جنگلاتی آگ سے تباہ ہونے والی نباتات کو بھی خطرہ بڑھانے والا عامل قرار دیا، کیونکہ اس سے زمین کٹاؤ کے سامنے زیادہ کمزور ہوگئی۔
چلی میں سیلاب پہلے بھی آ چکے ہیں۔ جون 2024 کی بارشوں سے ہزاروں گھر متاثر ہوئے تھے۔
موجودہ سیلاب مضبوط ہوتے ال نینو کے دوران آیا، جو بارشوں کے رجحانات بدلتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اس خطرے کا وسیع پس منظر ہے۔ آئی پی سی سی کے مطابق ہر ایک ڈگری اضافے پر گرم ہوا تقریباً سات فیصد زیادہ نمی رکھ سکتی ہے، جس سے شدید بارش کا امکان بڑھتا ہے۔ تاہم اس مخصوص سیلاب میں موسمیاتی تبدیلی کا حصہ معلوم کرنے کے لیے الگ سائنسی تحقیق ضروری ہے۔





