اسلام آباد: عالمی یوم مسکن آج پانچ اکتوبر کو ’’سب کے لیے مناسب رہائش‘‘ کے موضوع کے تحت منایا جارہا ہے، جس میں محفوظ اور قابل برداشت گھروں تک رسائی کے عالمی بحران کو اجاگر کیا جارہا ہے۔
رہائش اور شہری ترقی پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کے مطابق دنیا میں دو ارب اسی کروڑ افراد کسی نہ کسی صورت ناکافی رہائش کا سامنا کرتے ہیں۔ تقریباً ایک ارب دس کروڑ لوگ کچی یا غیر رسمی آبادیوں میں رہتے ہیں، جہاں رہائشی حقوق اور بنیادی سہولتیں اکثر غیر یقینی ہوتی ہیں۔
مناسب رہائش کا مطلب صرف سر پر چھت ہونا نہیں۔ بین الاقوامی معیار میں قابل برداشت اخراجات، محفوظ تعمیر، پانی اور صفائی کی سہولتیں، مناسب مقام اور جبری بے دخلی سے تحفظ بھی شامل ہیں۔
قابل برداشت اخراجات سے مراد یہ ہے کہ گھر کا کرایہ یا دیگر رہائشی خرچ ادا کرنے کے بعد خاندان اپنی باقی ضروریات بھی پوری کرسکے۔ رہائشی تحفظ کا مطلب مالک یا کرایہ دار کو گھر میں رہنے کے قانونی حقوق حاصل ہونا ہے۔
یہ دن اکتوبر کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز انیس سو چھیاسی میں ہوا تھا، تاکہ حکومتیں اور شہری اپنے رہائشی حالات اور مناسب پناہ کے حق پر توجہ دیں۔
رواں سال عالمی تقریب عمان کے دارالحکومت مسقط میں طے ہے، جہاں رہائش تک رسائی بڑھانے اور بہتر شہری زندگی کے لیے اقدامات پر گفتگو ہوگی۔
پاکستان کی پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی بھی اس سال یو این ہیبی ٹیٹ کے اعزاز حاصل کرنے والے اداروں میں شامل ہے۔ اسے کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے مناسب، محفوظ اور سستی رہائش تک رسائی بڑھانے کے کام پر تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ دن اسپین میں بڑھتے کرایوں اور بے دخلیوں کے خلاف احتجاج کے دوران آرہا ہے۔ رہائش کا بحران گھروں کی تعداد کے ساتھ ان کی قیمت، حفاظت اور بنیادی سہولتوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔





