مشرقی یروشلم: عالمی ادارہ خوراک، ڈبلیو ایف پی، نے پیر کو کہا کہ فنڈز کی کمی کے باعث غزہ میں پانچ لاکھ افراد کی ماہانہ امداد بند کردی جائے گی، حالانکہ بھوک، بے گھری اور اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
کٹوتیوں کے بعد تقریباً 11 لاکھ فلسطینیوں کو کم مقدار میں خوراک یا نقد امداد ملے گی۔ جنگ بندی کے بعد ادارہ ہر ماہ 15 لاکھ سے 18 لاکھ افراد تک مدد پہنچا رہا تھا۔
ڈبلیو ایف پی کے کنٹری ڈائریکٹر شان ہیوز نے کہا کہ امداد میں کمی کی وجہ خوراک پہنچانے میں رکاوٹ نہیں، بلکہ مالی وسائل کی قلت ہے۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ روزانہ فضائی حملے اور نقل مکانی جاری ہے، جبکہ تقریباً تمام لوگ مستقل رہائش سے محروم ہیں۔
ادارے کے تازہ تخمینوں کے مطابق غزہ کے تقریباً 14 لاکھ افراد، یعنی دو تہائی آبادی، شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور زندہ رہنے کے لیے انسانی امداد کی ضرورت رکھتے ہیں۔
غذائی امداد حاصل کرنے والے خاندانوں کو اب دو کے بجائے ایک راشن پیکٹ اور گندم کے آٹے کا چھوٹا تھیلا دیا جائے گا۔
نقد امداد لینے والے 75000 خاندانوں کی ماہانہ رقم 1250 شیکل سے کم کرکے 750 شیکل کردی جائے گی، جو تقریباً 400 ڈالر سے گھٹ کر 240 ڈالر بنتی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں آئندہ چھ ماہ کی کارروائیوں کے لیے تقریباً 45 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔ تاہم 2026 میں فلسطینی علاقوں کے لیے اسے معمول کی مالی معاونت کا تقریباً نصف ہی ملا ہے۔
حکومتوں اور نجی عطیہ دہندگان کی مدد سے چلنے والے ادارے کے وسائل میں کمی آئی ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی بین الاقوامی امداد کی کٹوتیاں بھی شامل ہیں۔
ستمبر میں ادارے نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے گھٹا کر دو لاکھ کردی تھی۔
غزہ میں اگست 2025 میں قحط کا اعلان ہوا تھا۔ اکتوبر میں امریکی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد دسمبر میں قحط کی درجہ بندی ختم کردی گئی، تاہم اسرائیلی حملے جاری رہے۔
شان ہیوز نے خبردار کیا کہ حالات اب بھی امداد واپس لینے کی اجازت نہیں دیتے۔ ادارے کے مطابق سردیوں کی آمد سے انسانی ضروریات دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔
اسرائیل نے جنگ بندی کے تحت مزید سامان داخل ہونے دیا ہے، لیکن ممکنہ فوجی استعمال کی بنیاد پر پابندیاں برقرار ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان میں مصنوعی اعضا کی ترسیل روکنا بھی شامل رہا ہے۔





