تیرانا: البانیہ کے وزیراعظم ایڈی راما نے اتوار 18 اکتوبر کو استعفے کے مطالبات مسترد کردیے، جبکہ حکومت مخالف احتجاج چھٹے روز میں داخل ہوگیا اور پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔
مظاہرے منگل کو جامعات کی خراب صورت حال، زیادہ فیسوں اور بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد میں پُرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگئے۔
اتوار کی دوپہر سیکڑوں مظاہرین وزارت تعلیم کے باہر جمع ہوئے اور وزیراعظم کے استعفے کے حق میں نعرے لگائے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔
بعض مظاہرین نے سڑکوں پر کوڑے دانوں کو آگ لگائی، راستے میں عمارتوں کے شیشے توڑے اور پولیس پر پتھر اور پیٹرول بم پھینکے۔ حکمران سوشلسٹ پارٹی کے مرکزی دفتر کے شیشے بھی توڑے گئے۔
پولیس نے ہجوم کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس استعمال کی۔
سب سے شدید تشدد ہفتے کو رپورٹ ہوا، جب مظاہرین نے پولیس پر پتھر، دھاتی اشیا، پیٹرول بم اور آتش بازی کا سامان پھینکا۔
گاڑیوں اور کوڑے دانوں کو آگ لگا کر آگے بڑھتی پولیس کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئیں۔
ایک ویڈیو خطاب میں وزیراعظم راما نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بدامنی کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہروں سے ان کی حکومت کے بجائے البانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی امیدوں کو خطرہ لاحق ہے۔
تیرانا میں امریکی سفارت خانے نے جاری جھڑپوں کے دوران تمام فریقوں سے تحمل اور پُرسکون رہنے کی اپیل کی۔





