واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو اس معاملے پر دلائل سنے کہ آیا مقامی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی سے منسلک اخراجات کے ازالے کے لیے فوسل فیول کمپنیوں کے خلاف ریاستی عدالتوں میں مقدمات دائر کر سکتی ہیں۔ اس کیس کا فیصلہ امریکا بھر میں اسی نوعیت کے درجنوں مقدمات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
Suncor Energy Inc. v. County Commissioners of Boulder County نامی یہ کیس 2018 میں کولوراڈو کے شہر بولڈر اور کاؤنٹی حکام کی جانب سے سنکور انرجی اور ایکسن موبل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے سے متعلق ہے۔ مقامی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ کمپنیوں کو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔
بولڈر حکام کا الزام ہے کہ ایکسن اور سنکور نے فوسل فیول جلانے کے موسمیاتی اثرات کے بارے میں اپنی معلومات کو چھپایا یا غلط انداز میں پیش کیا۔ کمپنیوں نے مقدمے کی قانونی بنیاد کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی قانون کے تحت ریاستی قوانین کی بنیاد پر ایسے دعوے نہیں کیے جا سکتے۔
تنازع کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ آیا وفاقی کلین ایئر ایکٹ اور وفاقی قانون کے دیگر اصول ریاستی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایسے دعوؤں کو روک دیتے ہیں۔ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس میں مختلف ریاستوں اور ممالک سے ہونے والا اخراج شامل ہے۔
سماعت کے دوران کئی ججوں نے سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے مقدمات کا دائرہ کس حد تک وسیع ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بولڈر کا مقدمہ آگے بڑھتا ہے تو ملک بھر کی مقامی حکومتیں اسی نوعیت کے دعوے دائر کر سکتی ہیں، جبکہ جسٹس بریٹ کیوانا نے ممکنہ مالی ذمہ داری کے حجم پر سوال اٹھایا۔
دیگر ججوں نے سوال کیا کہ آیا وفاقی قانون واضح طور پر ریاستوں کو ایسے مقدمات کی سماعت سے روکتا ہے۔ جسٹس ایلینا کیگن نے تمباکو اور اوپیئڈ کمپنیوں کے خلاف ماضی میں ریاستی سطح پر دائر مقدمات سے اس کیس کا موازنہ کیا، جبکہ رابرٹس نے کہا کہ ریاستی عدالتیں پہلے ہی ایسے مقدمات سنتی ہیں جن کے اثرات ریاستی حدود سے باہر تک پھیلتے ہیں۔
سپریم کورٹ اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا اسے اس مرحلے پر اس تنازع کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ کولوراڈو سپریم کورٹ نے بولڈر کے مقدمے کو ٹرائل کی جانب بڑھنے کی اجازت دی تھی، تاہم بنیادی مقدمے کی کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
جسٹس سیموئل الیٹو نے خود کو اس کیس کی سماعت سے الگ کر لیا ہے، جس کے بعد آٹھ جج دلائل سن رہے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی کے باعث فیصلہ چار چار سے برابر ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ ایسی صورت میں کولوراڈو کا فیصلہ برقرار رہے گا، تاہم ملک بھر کے لیے سپریم کورٹ کی کوئی نظیر قائم نہیں ہوگی۔
اس کیس کے اثرات کولوراڈو تک محدود نہیں ہیں۔ اگر فیصلہ تیل کمپنیوں کے حق میں آتا ہے تو اس سے ریاستی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے دائر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق درجنوں مقدمات متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر بولڈر کے مقدمے کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے دعوؤں پر ریاستی عدالت میں کارروائی جاری رہ سکے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس تنازع میں تیل کمپنیوں کی حمایت کی ہے، جبکہ بولڈر کا مؤقف ہے کہ وہ قومی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو منظم کرنے کے بجائے مبینہ مقامی نقصانات کا معاوضہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ آئندہ سال متوقع ہے۔





