پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں منگل کو انسداد پولیو مہم کی سکیورٹی ڈیوٹی پر جانے والے پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ تحصیل پنڈیالی کے علاقے ڈاگ تمانزئی میں ہاشم کور پولیس چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا۔
ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس لیاقت علی نے تصدیق کی کہ اہلکار انسداد پولیو ٹیم کے ساتھ سکیورٹی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے جا رہے تھے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔
شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت سپاہی ظہور اور سپاہی فضل ربی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار کا نام صابر بتایا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے شہید پولیس اہلکاروں اور زخمی کو غلنئی اسپتال منتقل کیا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضا محمد خان کے مطابق واقعے میں ایک مشتبہ حملہ آور بھی زخمی ہوا ہے۔ پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
وزیر داخلہ اور گورنر خیبرپختونخوا کی مذمت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انسداد پولیو مہم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے خدمات انجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ یہ اہلکار بچوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کی قومی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انسداد پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کے لیے مؤثر سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ حملہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ملک بھر میں 2 نومبر سے انسداد پولیو مہم جاری ہے۔
صوبائی محکمہ صحت کے مطابق خیبرپختونخوا کے 27 اضلاع میں 45 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ملک بھر میں جاری مہم کے دوران تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا منصوبہ ہے۔
پولیو ٹیموں پر حملوں کا سلسلہ جاری
پاکستان کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے والے صحت کے کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو ماضی میں بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔
ستمبر میں بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ٹیم پر مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔
اسی طرح اپریل میں خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں انسداد پولیو ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں پر حملے میں ایک کانسٹیبل شہید اور چار اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
مہمند میں تازہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے ویکسینیشن مہم جاری ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے حال ہی میں 2026 کے دوران ملک میں پولیو کے ساتویں کیس کی تصدیق کی تھی۔
یہ کیس ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جان باز میں سامنے آیا، جہاں 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی اب بھی جاری ہے۔
پولیس نے مہمند میں ہونے والے حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔





