اسلام آباد: سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹر اور سلیکشن کمیٹی کے ممبر عاقب جاوید کے دفاع میں آگئے۔
راولپنڈی ایکسپریس شیعب اختر نے پی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ عاقب جاوید 1992 والی سوچ دوبارہ لانے کی کوشش کررہے ہیں جو بلکل ٹھیک تھی، وہ ہر کھلاڑی کا متبادل تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان کسی ایک پلیئر پر انحصار نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فاسٹ بولر کے معاملے پر مشکلات درپیش ہیں، ہمیں اگر اپنے پیس بیٹری میں اضافہ کرنا ہے تو تبدیلیاں کرنا ہونگی، یہ بلکل 1992 والا مائنڈ سیٹ ہے، لیجنڈ وقار یونس فٹ نہیں تھے تو پتہ تھا مینجمنٹ کو شعیب اختر موجود ہے۔
شعیب اختر نے کہا کہ عاقب جاوید اگر کسی کو ڈراپ کررہے ہیں تو واپس نیشنل کرکٹ اکیڈمی جائے گا اپنی پرفارمنس پر کام کرے گا اور ٹیم میں واپس آئے گا، ایسا نہیں ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ اگر آپکو آج پاکستان ٹیم کا مائنڈ سیٹ بدلا ہوا نظر آرہا ہے تو اسکا کریڈیٹ مائیک ہیسن سے زیادہ عاقب جاوید کو جاتا ہے جنہوں نے مشکل فیصلے کیے۔





