کراچی: برطانوی نژاد پاکستانی فلم ساز سیماب گل کی فیچر فلم ’گھوسٹ اسکول‘ 2025 میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ٹی آئی ایف ایف) میں عالمی پریمیئر کے بعد اب پاکستان بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے تیار ہے۔
88 منٹ دورانیے کی اردو زبان میں بننے والی یہ فلم اعلان کردہ سنیما فہرست کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ میں سنے پیکس کے منتخب سنیما گھروں میں پیش کی جائے گی۔
فلم کی کہانی 10 سالہ بچی رابعہ کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار نازولیہ ارسلان نے ادا کیا ہے۔ رابعہ پاکستان کے ایک دیہی علاقے میں اپنے اسکول کی اچانک بندش کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کرتی ہے۔
گاؤں میں یہ افواہیں پھیل جاتی ہیں کہ اس کی استانی پر جن کا سایہ ہے۔ تاہم رابعہ بڑوں کی جانب سے دی جانے والی وضاحتوں پر سوال اٹھاتی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ آخر اسکول کو بند کیوں کیا گیا۔
فلم میں رابعہ کی والدہ کا کردار ثمینہ سحر نے ادا کیا ہے، جو اکیلے اپنی بیٹی کی پرورش کی ذمہ داریاں نبھانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں اور اسکول کی بندش کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر پاتیں۔
رابعہ کی تحقیقات کے دوران مقامی بااثر شخصیات، غلط معلومات، سرکاری اداروں کی عدم توجہی اور دیہی تعلیم کے نظام میں جواب دہی کے فقدان جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔
’گھوسٹ اسکول‘ محض ایک پراسرار یا مافوق الفطرت کہانی پیش کرنے کے بجائے اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کس طرح توہم پرستی اور خوف ادارہ جاتی ناکامیوں کو چھپا سکتے ہیں اور لوگوں کو بااختیار شخصیات سے سوال کرنے سے روک سکتے ہیں۔
فلم میں صنفی عدم مساوات، جاگیردارانہ اثر و رسوخ اور بنیادی سہولیات سے محروم علاقوں میں بچوں کو تعلیم تک رسائی کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔
ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق رابعہ اپنی تلاش کے دوران مختلف سماجی اور معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملتی ہے اور اسکول کی بندش کے پیچھے موجود حقیقت جاننے کی کوشش کرتی ہے۔
فیسٹیول کی جانب سے فلم میں دیہی مناظر، سادہ اور پُرسکون اندازِ بیان اور ایک بچی کے نقطہ نظر سے وسیع تر سماجی اور سیاسی مسائل کی عکاسی کو نمایاں کیا گیا۔
’گھوسٹ اسکول‘ کا عالمی پریمیئر 2025 میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا، جہاں اسے ایک خاتون فلم ساز کی ہدایت کاری میں بننے والی ایسی ڈرامہ فلم کے طور پر پیش کیا گیا جو ایک بچی کے شعوری اور شخصی ارتقا کی کہانی بیان کرتی ہے۔
لندن میں مقیم برطانوی نژاد پاکستانی مصنفہ، ہدایت کارہ اور پروڈیوسر سیماب گل نے فنونِ لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن فلم اسکول سے فلم سازی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
ان کی سابقہ مختصر فلموں میں ’اوور ٹائم‘ (2011)، ’ون ڈے اِن وائٹ چیپل‘ (2015)، ’زاہدہ‘ (2018) اور ’سینڈ اسٹورم‘ (2021) شامل ہیں۔
سیماب گل نے دستاویزی اور افسانوی، دونوں طرز کی فلم سازی میں کام کیا ہے۔ ان کے کام میں سماجی ڈھانچوں، سیاسی حالات اور معاشرے کے نظرانداز کیے جانے والے طبقات کے تجربات کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔
بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں نمائش کے بعد ’گھوسٹ اسکول‘ کی پاکستان میں متوقع ریلیز سے مقامی شائقین کو بھی یہ فلم سنیما گھروں میں دیکھنے کا موقع ملے گا۔
اعلان کردہ سنیما گھروں میں کراچی کا سنے پیکس اوشن مال، لاہور کے امانہ مال اور پیکیجز مال، اسلام آباد کا ڈبلیو ٹی سی، راولپنڈی کا جناح پارک، فیصل آباد کا ہوٹل ون، گوجرانوالہ کا کنگز مال، گجرات کا نیر مال اور سیالکوٹ کا مال آف سیالکوٹ شامل ہیں۔
فلم کی نمائش کی تاریخوں، شو ٹائمز اور ٹکٹوں کی بکنگ سے متعلق مزید معلومات سنیما انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے کی توقع ہے۔





