صنعا: یمن کے حوثیوں سے وابستہ میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے منگل، 13 اکتوبر کو دارالحکومت صنعا کے قریب تیل ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق فضائی حملوں میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دارالحکومت صنعا میں یمن آئل کمپنی کے الصباح مرکزی اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل سعودی اتحاد نے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ممکنہ فوجی کارروائی سے پہلے تیل کی تنصیب اور اس کے گردونواح سے نکل جانے کی ہدایت کی تھی۔
اتحاد نے ایک نقشے کے ذریعے متعلقہ مقام کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے علاقے سے انخلا کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
بعد ازاں صنعا میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے ان دھماکوں کو سعودی اتحاد کے فضائی حملوں کا نتیجہ قرار دیا۔ تاہم تنصیب کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ جانی نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ صنعا پر مزید حملوں کی صورت میں سعودی دارالحکومت ریاض میں اہداف کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔
حوثیوں نے سعودی آرامکو کے دمام میں واقع مرکزی دفتر، ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دارالحکومت میں آرامکو کی آئل ریفائنری کو ممکنہ اہداف قرار دیا۔
گروپ نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کے قریب موجود ملازمین اور شہریوں کو بھی ان مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی، جبکہ ان تنصیبات کو ممکنہ فوجی اہداف قرار دیا۔
یہ تازہ کشیدگی سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حالیہ حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائیاں بڑھا چکا ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تنازعے کے باعث مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی غیر مستحکم صورتحال سے دوچار ہے، جس سے توانائی کی تنصیبات اور بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
آبنائے باب المندب کے قریب یمن کا جغرافیائی محل وقوع اس تنازعے کو عالمی تجارت کے لیے بھی اہم بناتا ہے، کیونکہ یہ سمندری راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔




