ریاض: یمن کے حوثی گروپ کے خلاف سرگرم سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے جمعرات، 15 اکتوبر کو مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل کو فضا میں روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کروز میزائل کو تباہ کرنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ میزائل کہاں سے داغا گیا تھا اور اس کا ممکنہ ہدف کیا تھا۔
اتحاد کی جانب سے میزائل کو تباہ کیے جانے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کے بارے میں بھی فوری طور پر معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب حوثیوں نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے سعودی عرب کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ بدھ کو سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کرنے کے اعلان کے بعد پیش آیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد کے مطابق یہ بیلسٹک میزائل یمن کے حوثی گروپ نے داغا تھا۔
دوسری جانب حوثیوں نے الگ سے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس مبینہ حملے سے ہونے والے کسی بھی نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سعودی فوجی اتحاد نے حوثیوں پر 29 ستمبر کو مدینہ منورہ میں واقع طیبہ بجلی تقسیم مرکز پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
تازہ واقعہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان سابقہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ شدت اختیار کرنے والی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔





