ریاض: سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) کے مطابق، ہفتہ 10 اکتوبر کو دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہو گئے۔
اتھارٹی نے اتوار کی صبح ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں ریاض کے مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی جبکہ امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل ہے۔
ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک میزائل ہوائی اڈے کے اس حصے میں گرا جہاں اندرونِ ملک پروازوں کے لیے استعمال ہونے والے ٹرمینل تین اور چار واقع ہیں۔
یہ واقعہ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی فضائی سہولیات پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد پیش آیا۔ جمعرات کو اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں مبینہ طور پر ایک پائلٹ سمیت تین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کا ذمہ دار حوثی تحریک کو قرار دیا ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اس کا جواب دے گا۔
حوثیوں نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اس سے قبل وہ فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کر چکے تھے۔
حوثی تحریک نے سعودی عرب پر ہفتے کے روز یمن کے دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔
کشیدگی میں یہ اضافہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف سعودی قیادت میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں یمنی حکومتی افواج حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یمنی حکومتی افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النازلی نے دعویٰ کیا کہ ’فجرِ یمن‘ کے نام سے جاری فوجی مہم کے دوران تقریباً دو ہزار کارروائیوں میں کم از کم 1,150 حوثی جنگجو مارے گئے ہیں۔
تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر غور کر رہا ہے۔
ہوائی اڈے پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
بعد ازاں ریاض میں امریکی سفارت خانے نے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو سعودی ہوائی اڈوں سے سفر کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔
اس ہدایت نامے کے تحت ریاض، جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں سے سفر کرنے والے امریکی سرکاری ملازمین کے لیے بھی پابندیاں عائد کی گئیں، جبکہ یمن کی سرحد سے متصل علاقوں کے سفر پر بھی اضافی پابندیاں نافذ کی گئیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی تحریک اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے درمیان لڑائی جاری ہے، جبکہ ایران سے متعلق علاقائی جنگ کے باعث تنازع مزید پھیل رہا ہے۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے بھی مبینہ طور پر مکہ معاہدے کے تحت اپنے مشترکہ دفاعی انتظامات کو فعال کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے تازہ حملے کے بعد فضائی سفر کے تحفظ اور سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مزید فوجی کشیدگی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔





