اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 2027 کے لیے گندم کی اشاریاتی قیمت 4500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کردی ہے۔ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب کاشتکار رواں بوائی کے موسم میں گندم کے لیے رقبہ مختص کررہے ہیں۔
جمعہ، 23 اکتوبر کو اعلان کردہ قیمت گزشتہ سال کے 3500 روپے سے 1000 روپے، یعنی تقریباً 28.6 فیصد زیادہ ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اضافے کی وجہ پیداواری اخراجات، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی کا دباؤ ہے، جبکہ مقصد کاشتکاروں کی آمدن اور ملکی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
کیا حکومت اس قیمت پر خریداری کی ضمانت دے رہی ہے؟
سرکاری اعلان میں اسے اشاریاتی یا مجوزہ قیمت کہا گیا ہے۔ اس سے مراد آئندہ فصل کے لیے ایک رہنما قیمت ہے۔ صرف اس اعلان سے یہ ضمانت قائم نہیں ہوتی کہ حکومت ہر کسان کی تمام گندم اسی نرخ پر خریدے گی۔
یقینی خریداری کے لیے یہ تفصیلات درکار ہوں گی کہ خریدار کون ہوگا، کتنی گندم خریدی جائے گی، کون سے کسان اہل ہوں گے، معیار کی شرائط کیا ہوں گی اور ادائیگی کب ہوگی۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ اعلان کردہ قیمت اور کسان کو عملی طور پر ملنے والی قیمت مختلف ہوسکتی ہیں، خصوصاً جب اسے کٹائی کے فوراً بعد رقم کی ضرورت ہو۔
کسان تنظیموں کا ردعمل
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے اعلان کا خیرمقدم کیا، تاہم مؤثر خریداری انتظامات کو ضروری قرار دیا۔
دیگر کسان نمائندوں نے کھاد، ڈیزل، بیج اور زمین کے کرایوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے 5000 روپے فی 40 کلوگرام کی قیمت کا مطالبہ کیا۔
دی نیوز کے مطابق کسان تنظیموں نے خریداری، مالی وسائل اور ذخیرہ کرنے کا مربوط منصوبہ بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ آیا کسان اپنی فصل اعلان کردہ نرخ پر فروخت کرسکیں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ نے بھی یکم اکتوبر کو کم از کم 5000 روپے کی سفارش کی تھی۔ یہ سفارش وزیراعظم کی بعد میں اعلان کردہ اشاریاتی قیمت سے الگ ہے۔
گندم کون خریدے گا؟
جمعہ کے اعلان میں 2027 کی فصل کے لیے خریداری کا مکمل طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا۔
صوبوں کے انتظامات پہلے مختلف رہے ہیں۔ وزارت غذائی تحفظ نے فروری 2026 میں بتایا تھا کہ خیبرپختونخوا سرکاری و نجی خریداری کا مشترکہ طریقہ اختیار کررہا ہے، جبکہ سندھ نے سرکاری شعبے کے ذریعے خریداری کا منصوبہ پیش کیا تھا۔
یہ گزشتہ فصل سے متعلق انتظامات تھے؛ انہیں 2027 کے لیے برقرار تصور نہیں کرنا چاہیے۔
آٹا اور روٹی کتنے کی ہوں گے؟
4500 روپے فی 40 کلوگرام کا حساب گندم کے لیے 112 روپے 50 پیسے فی کلوگرام بنتا ہے۔ یہ آٹے کی سرکاری خوردہ قیمت نہیں۔
آٹے کی قیمت میں پسائی، نقل و حمل، ذخیرہ، مارکیٹ کی صورت حال اور ممکنہ سبسڈی بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے اعلان سے آٹے یا روٹی کی فوری نئی قیمت اخذ نہیں کی جاسکتی۔
اس فیصلے کا فوری مقصد آئندہ فصل کی کاشت کی حوصلہ افزائی ہے۔ کسان کی آمدن میں حقیقی بہتری کا انحصار اس خریداری نظام پر ہوگا جو اعلان کے بعد متعارف کرایا جاتا ہے۔





