اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 2.71 روپے فی لیٹر کمی کردی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 31 پیسے بڑھا دی گئی ہے۔ نئی قیمتیں جمعرات، 22 اکتوبر کے لیے نافذ ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 379.31 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 390.11 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
تبدیلی، روپے | نئی قیمت، روپے فی لیٹر | سابقہ قیمت، روپے فی لیٹر | ایندھن |
|---|---|---|---|
2.71 کمی | 379.31 | 382.02 | پیٹرول |
0.31 اضافہ | 390.11 | 389.80 | ہائی اسپیڈ ڈیزل |
نئی قیمت کے مطابق 40 لیٹر پیٹرول خریدنے والے صارف کو سابقہ نرخ کے مقابلے میں 108.40 روپے کی بچت ہوگی۔ اتنی ہی مقدار میں ڈیزل خریدنے پر 12.40 روپے زیادہ ادا کرنا ہوں گے۔
اپریل کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں دونوں ایندھن سستے ہوئے ہیں، تاہم علاقائی تنازع سے پہلے کے نرخوں کی نسبت قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں۔
پیٹرول تین اپریل کی بلند ترین قیمت 458.41 روپے سے 79.10 روپے فی لیٹر کم ہے۔ ڈیزل بھی اسی تاریخ کی بلند ترین قیمت 520.35 روپے سے 130.24 روپے کم ہوچکا ہے۔
تاہم رپورٹ میں بیان کردہ پیٹرول کی سابقہ 266 روپے اور ڈیزل کی 281 روپے فی لیٹر سطح کے مقابلے میں موجودہ قیمتیں بالترتیب تقریباً 43 اور 39 فیصد زیادہ ہیں۔
تازہ ردوبدل جولائی میں اعلان کردہ روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت کیا گیا ہے، جو عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے جواب میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس لیے 22 اکتوبر کی قیمتوں کو آئندہ پندرہ روز کے لیے مقررہ نرخ نہیں سمجھنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیاں وصول کررہی ہے۔
پیٹرول کی قیمت کا براہ راست اثر موٹر سائیکل، چھوٹی گاڑی اور نجی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں پر پڑتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت مال برداری، جنریٹرز اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات پر اثرانداز ہوتی ہے۔
حکومت نے ایندھن کی بچت کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں، جن میں بازار رات نو بجے بند کرنا اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی شامل ہے۔
پیٹرول کی کمی سے گاڑی میں ایندھن بھروانے کی فوری لاگت کچھ کم ہوئی ہے، جبکہ ڈیزل استعمال کرنے والے کاروباروں کو معمولی اضافے کا سامنا ہوگا۔





