بئر السبع: اسرائیلی حکام نے پیر کو فلسطینی بدوی گاؤں الضاحیہ میں 80 تعمیرات مسمار کر دیں، جس سے تقریباً 400 افراد بے گھر ہوئے، الجزیرہ نے راحت کے میئر کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
صحرائے نقب، جسے نیگیو بھی کہا جاتا ہے، میں اس کارروائی کے بعد خاندانوں کو یہ غیر یقینی صورت حال درپیش ہے کہ وہ پناہ کہاں لیں۔ اسرائیلی حکام نے تعمیراتی اجازت ناموں کی عدم موجودگی کو مسماری کی وجہ بتایا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق کارروائی میں ابو وادی برادری کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور تقریباً 80 خاندان متاثر ہوئے۔ اس سے پہلے بئر السبع کی ضلعی عدالت نے مسماری کے احکامات روکنے کی رہائشیوں کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
اجازت ناموں کا معاملہ رہائش اور تعمیراتی منصوبہ بندی کے وسیع بحران سے جڑا ہے۔ وفا کے مطابق غیر تسلیم شدہ دیہات میں منظور شدہ تعمیراتی منصوبے موجود نہیں، جس سے رہائشیوں کو اپنے گھروں کی قانونی حیثیت حاصل کرنے میں رکاوٹوں اور مسماری کے مسلسل خطرے کا سامنا رہتا ہے۔
ادارے نے کہا کہ نقب میں دسیوں ہزار عرب شہری ایسے دیہات میں رہتے ہیں جہاں رہائش، بنیادی ڈھانچہ اور خدمات ناکافی ہیں۔ وفا کے مطابق حالیہ برسوں میں خطے میں مسماری کی کارروائیاں بھی بڑھی ہیں۔
الضاحیہ کے رہائشی اسرائیل کے اندر آباد فلسطینی بدوی ہیں۔ ان کی بے گھری غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے باہر بھی فلسطینیوں کو درپیش رہائشی عدم تحفظ کی طرف توجہ دلاتی ہے، اگرچہ ان علاقوں کے قانونی اور سیاسی حالات مختلف ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مسئلہ چھت کا چھن جانا ہے۔ مستقل رہائش اور دوبارہ مسماری سے تحفظ کا سوال بدستور باقی ہے۔





