کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اپنی 30 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کر دی، جبکہ کمیشن کی مدت میں توسیع کا معاملہ سندھ کابینہ کے زیر غور ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک رکنی عدالتی کمیشن کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے حتمی فیصلے کے لیے صوبائی کابینہ کو بھجوا دیا ہے۔ کابینہ کی جانب سے یکم اکتوبر کے اجلاس میں معاملے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔
کمیشن نے کارروائی 2 اکتوبر کو صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی۔ مدت میں توسیع کی منظوری کی صورت میں باقی گواہوں کو نئے نوٹس جاری کیے جائیں گے، جبکہ تین سینئر پولیس افسران کو سوالنامے بھیجے جائیں گے۔ توسیع منظور نہ ہونے کی صورت میں کمیشن اب تک ریکارڈ کیے گئے بیانات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کرے گا۔
عدالتی کمیشن میر رضا علی کی موت کے حالات کے ساتھ ابتدائی پولیس تحقیقات اور طبی معائنے میں ممکنہ خامیوں کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے طریقہ کار اور پہلے پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والے تضادات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
25 سالہ تاجر اور آئی بی اے کے گریجویٹ میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں خودکشی کے امکان پر غور کیا گیا تھا، تاہم ان کے اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ میر رضا کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔
بعد ازاں میر رضا کی قبر کشائی کرکے دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ حتمی رپورٹ کے مطابق ان کی موت کمر پر گولی لگنے سے ہوئی اور طبی نتائج خودکشی کے امکان سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کر دی گئی۔
میر رضا کے اہل خانہ نے پولیس تحقیقات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی بہن علیشبہ اور اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر کے مطابق، وہ ذمہ دار افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے بااختیار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا مطالبہ کریں گے۔





