باکو: پاکستان ہفتے کو گیمبیا کے خلاف میچ سے فیفا کے پہلے انڈر 15 ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول میں اپنی مہم شروع کرے گا، جہاں نوجوان کھلاڑیوں کو مختلف ممالک کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملے گا۔
آذربائیجان میں 30 اکتوبر تک جاری رہنے والے ٹورنامنٹ میں فیفا کی 189 رکن ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں شریک ہیں۔ فیفا کے مطابق پاکستان ان 78 شرکا میں شامل ہے جو مردوں یا خواتین کی کسی بھی عمر کی فیفا ورلڈ کپ مسابقت میں پہلی مرتبہ حصہ لے رہے ہیں۔ یہ اعزاز نئے یوتھ ٹورنامنٹ میں شرکت سے متعلق ہے، سینئر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے سے نہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پاکستان افتتاحی روز گیمبیا کا سامنا کرے گا۔
اس مقابلے کا طریقۂ کار روایتی بین الاقوامی فٹ بال سے مختلف ہے۔ ہر ٹیم میں 11 کے بجائے آٹھ کھلاڑی ہوں گے اور میچ 20، 20 منٹ کے دو ہاف پر مشتمل ہوگا۔ 2011 یا 2012 میں پیدا ہونے والے کھلاڑی شرکت کے اہل ہیں۔
ابتدائی مرحلے کے نتائج کے بعد ٹیموں کو کارکردگی کی بنیاد پر چھ درجوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر درجے کا الگ فاتح ہوگا، جبکہ پہلے درجے، یعنی ٹیئر اے، کی کامیاب ٹیم مجموعی چیمپئن بنے گی۔
اس ترتیب میں ابتدائی شکستوں کے بعد ٹیموں کا سفر ختم نہیں ہوگا۔ تمام ٹیمیں آخری روز تک کھیلیں گی اور انہیں ابتدائی کارکردگی کے مطابق گروپ کیے گئے حریفوں کے خلاف مزید مقابلے ملیں گے۔
فیفا نے بعض قواعد بھی تبدیل کیے ہیں۔ گیند میدان سے باہر جانے پر ہاتھ سے تھرو کرنے کے بجائے پاؤں سے کھیل میں واپس لائی جائے گی۔ آف سائیڈ کا قانون صرف گول لائن سے 14 میٹر کے فاصلے پر نشان زدہ لکیر کے آگے لاگو ہوگا۔ میدان کی لمبائی 68 اور چوڑائی 47 میٹر ہوگی۔
زیادہ تر میچ ہووسان کمپٹیشن کمپلیکس میں ہوں گے، جبکہ مختلف درجوں کے فائنل باکو کے کرسٹل ہال میں کھیلے جائیں گے۔ تقریباً 1000 میچ شیڈول ہیں۔
پاکستانی شائقین میچ آن لائن بھی دیکھ سکیں گے۔ فیفا کے مطابق دنیا بھر میں فیفا پلس آن ڈیزن کے ذریعے مقابلوں کی مفت براہِ راست نشریات اور ریکارڈنگ دستیاب ہوگی۔ ایک وقت میں 20 تک میچ دکھائے جا سکیں گے۔
پہلا ایڈیشن لڑکوں کی ٹیموں کے لیے ہے۔ لڑکیوں کا ٹورنامنٹ 2027 میں، جبکہ 2028 سے دونوں کے الگ مقابلے منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔





