راولپنڈی: ہیری بروک نے 202 رنز بنائے اور انگلینڈ نے اسکور بورڈ پر 429 رنز سجائے، لیکن سری لنکا نے ایک گیند باقی رہتے ہوئے یہ مقابلہ بھی اپنے نام کرلیا۔
جمعرات کو جنیت لیاناگے نے آخری اوور کی پانچویں گیند پر چھکا لگاکر سری لنکا کو دو وکٹوں سے کامیابی دلائی۔ مردوں کی ون ڈے تاریخ میں اس سے بڑا ہدف صرف جنوبی افریقہ نے حاصل کیا تھا، جس نے 2006 میں جوہانسبرگ میں آسٹریلیا کے خلاف 435 رنز کا ہدف عبور کیا تھا۔
سری لنکا نے 49.5 اوورز میں آٹھ وکٹوں پر 430 رنز بنائے۔ پاون رتھنائیکے نے 106 گیندوں پر 130 رنز کی اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
اویشکا فرنینڈو اور داسن شناکا نے 97، 97 رنز بنائے، جبکہ لیاناگے نے صرف 27 گیندوں پر ناقابل شکست 61 رنز بناکر مقابلہ ختم کیا۔
اس بڑے ہدف کا تعاقب ابتدا میں مزید مشکل ہوگیا تھا، جب سری لنکا کی دو وکٹیں صرف 24 رنز پر گر گئیں۔ فرنینڈو اور رتھنائیکے نے تیسری وکٹ کے لیے 166 رنز جوڑ کر اننگز سنبھالی۔
اس شراکت نے سری لنکا کو مقابلے میں برقرار رکھا اور نچلے نمبروں کے بلے بازوں کو بہت جلد میدان میں آنے سے بچایا۔ شناکا نے بعد میں رنز کی رفتار برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا، جبکہ لیاناگے کی جارحانہ بیٹنگ فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
اس سے قبل بروک نے 116 گیندوں پر 202 رنز بنائے، جن میں 21 چوکے اور 10 چھکے شامل تھے۔ وہ ون ڈے کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے انگلینڈ کے پہلے بلے باز بنے اور بین اسٹوکس کا 182 رنز کا سابق قومی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
جو روٹ نے 69 اور ول جیکس نے ناقابل شکست 66 رنز بنائے، جس کی بدولت انگلینڈ نے چار وکٹوں پر 429 رنز کا مجموعہ حاصل کیا۔
تاہم انگلش بولرز اس برتری کو کامیابی میں تبدیل نہ کرسکے۔ جوش ٹنگ نے 79 رنز دے کر تین وکٹیں لیں، جبکہ سیم کرن کو دو وکٹوں کے عوض 103 رنز پڑے۔ دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر 859 رنز بنائے۔
پاکستان سے پہلے مقابلے میں 87 رنز کی شکست کے بعد انگلینڈ اب دو میچوں میں کسی کامیابی کے بغیر ہے۔ دوسری جانب سری لنکا نے میزبان ٹیم کے خلاف ابتدائی شکست کے بعد اپنی پہلی فتح حاصل کرلی۔
سیریز کے باقی مقابلے لاہور میں ہوں گے، جہاں فائنل کی دو ٹیموں کا فیصلہ ہوگا۔ انگلینڈ کے لیے اب بڑا چیلنج شاندار انفرادی بیٹنگ کے ساتھ ایسی بولنگ پیش کرنا ہے جو حاصل شدہ برتری کا دفاع بھی کرسکے۔





