کراچی: خیبر پختونخوا میں سیاسی پیش رفت اور خطے میں سیکیورٹی خدشات کے باعث پیر، 12 اکتوبر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید مندی دیکھی گئی، جبکہ مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت کا رجحان رہا۔
کاروبار کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 2 ہزار پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سیاسی بے یقینی میں اضافے کے باعث گزشتہ ہفتے سے جاری مندی کا رجحان مزید شدت اختیار کر گیا۔
اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آئی، جبکہ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات نے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی میں ممکنہ اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
مندی کے دوران آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا نمایاں دباؤ دیکھا گیا۔
اس دوران حب پاور کمپنی، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان اسٹیٹ آئل اور متعدد بڑے کمرشل بینکوں سمیت اہم کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر 1,066 پوائنٹس، یعنی 0.6 فیصد کمی کے ساتھ تقریباً ایک لاکھ 67 ہزار 89 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب علاقائی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا، خصوصاً سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک سے متعلق حملوں اور خلیجی سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔
اگرچہ پیر کو روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے ممکنہ معاہدے کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی، تاہم مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات بدستور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثرانداز ہوتے رہے۔
کے ٹریڈ کے سربراہ شعبۂ تحقیق فواد بصیر کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کمزوری کی بنیادی وجوہات میں عالمی سیاسی و جغرافیائی کشیدگی اور خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی شامل ہیں۔
سرمایہ کار عالمی منڈی میں اشیا کی بلند قیمتوں کے مہنگائی پر ممکنہ اثرات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آئندہ مانیٹری پالیسی فیصلے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی حالیہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ ملکی سیاسی صورتحال، عالمی توانائی کی قیمتیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستانی حصص کی منڈی پر نمایاں اثر ڈال رہی ہیں۔





