راولپنڈی: پاک فوج نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری آٹھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔
جمعہ، 30 اکتوبر کو راولپنڈی میں خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے مسلسل دورے ثالثی کی کوششوں میں حوصلہ افزا پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کیا۔ ان کا حالیہ دورہ پیر کو ہوا، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔
جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیا کہ آیا ان دوروں سے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ ملتا ہے تو انہوں نے کہا کہ مثبت اشارے ضرور سامنے آئے ہیں، تاہم پاکستان کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سفارتی حل کی مخالفت کرنے والے بااثر عناصر مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے ان عناصر کی نشاندہی نہیں کی۔
فوجی ترجمان نے حالیہ مذاکرات کی تفصیلات بتانے یا اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا کہ آیا واشنگٹن نے وفد کے دورے کی توثیق کی تھی۔
ایران بھی مکہ دفاعی اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم مکہ دفاعی اتحاد میں مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق بھی گفتگو کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعی معاہدے میں ایسی کوئی واضح پابندی موجود نہیں جو دوسرے ممالک کو اتحاد میں شامل ہونے سے روکتی ہو۔
ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسے ممالک کی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے جو اجتماعی دفاعی صلاحیت اور علاقائی امن کے حوالے سے اتحاد کے مقاصد سے اتفاق رکھتے ہوں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت کا فیصلہ موجودہ تین رکن ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد کی مستقبل کی توسیع کا معاملہ سیاسی قیادت کی منظوری سے مشروط ہے اور موجودہ دفاعی ذمہ داریوں میں خودکار توسیع نہیں ہوگی۔
پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کا اعادہ
فوجی ترجمان نے سعودی عرب کی سلامتی اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ایسے فیصلے حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے درمیان مشاورت کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع میں فریق نہیں ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب اور یمن کی حوثی تحریک سے متعلق میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سفارتی پیش رفت کے باوجود حتمی معاہدہ غیر یقینی
حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ایران کے ساتھ رابطوں اور مشاورت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات ثالثی کی کوششوں میں محتاط امید کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن تاحال کسی بڑی سفارتی کامیابی یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
مذاکرات کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا متعلقہ فریق اپنے متضاد سلامتی اور سفارتی مطالبات پر اتفاقِ رائے پیدا کر پاتے ہیں اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔





