اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات میں انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کا ایک مبینہ نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے، جہاں گردے کی پیوندکاری کے لیے 30 لاکھ روپے وصول کیے گئے، جبکہ گردہ فراہم کرنے والے شخص کو صرف تین لاکھ 40 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اس غیر قانونی کاروبار میں تین ایجنٹ بھی شامل تھے جو مالی فائدہ حاصل کر رہے تھے۔
یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح معاشی مجبوری پاکستان میں انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت سے منافع کمانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق ایک مریض نے ایجنٹوں کے ذریعے گردے کی پیوندکاری کے لیے 30 لاکھ روپے نقد ادا کیے۔ گردہ فراہم کرنے والے شخص کو چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اس رقم میں سے 60 ہزار روپے ایجنٹوں کے کمیشن کے لیے مختص کیے گئے، جس کے بعد گردہ دینے والے کے حصے میں تین لاکھ 40 ہزار روپے آنے تھے۔
یہ رقم مریض سے وصول کی گئی مجموعی رقم کا تقریباً 11 فیصد بنتی ہے۔
باقی رقم کی تقسیم کی مکمل تفصیلات تاحال عوامی سطح پر سامنے نہیں آئیں، تاہم یہ واضح فرق ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ جب کسی شخص کی مالی مشکلات اسے اعضا کی غیر قانونی تجارت کی طرف دھکیلتی ہیں تو اس سے سب سے زیادہ منافع کون کماتا ہے؟
تحقیقات میں ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ گردہ فراہم کرنے والے شخص پر کوئی دباؤ ڈالا گیا تھا، کن مالی حالات نے اس کے فیصلے کو متاثر کیا یا آیا اسے وعدے کے مطابق رقم ادا بھی کی گئی تھی۔
تاہم یہ معاملہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے گردے کے بدلے رقم کی پیشکش ایک غیر مساوی لین دین کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس میں صحت سے متعلق خطرات گردہ فراہم کرنے والے شخص کو برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ ایجنٹ اور اس کاروبار کو چلانے والے افراد مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
مبینہ نیٹ ورک کی سرگرمیاں صرف گردہ فراہم کرنے والے اور وصول کرنے والے افراد تک محدود نہیں تھیں۔
ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کے مطابق نیٹ ورک اسپتالوں سے وابستہ افراد کے ذریعے طبی ٹیسٹ کا انتظام کرتا تھا اور مبینہ طور پر جعلی دستاویزات استعمال کرکے غیر متعلقہ افراد کو گردہ وصول کرنے والے مریضوں کے رشتہ دار ظاہر کیا جاتا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اسپتالوں سے منسلک افراد ڈائیلاسز اور دیگر طبی سہولیات کا انتظام بھی کرتے تھے۔
یہ انکشافات طبی اداروں کی نگرانی میں ممکنہ خامیوں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ مبینہ نیٹ ورک صحت کے نظام سے مکمل طور پر باہر رہ کر کام نہیں کر رہا تھا، بلکہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اسی نظام کی بعض سہولیات اور اس سے وابستہ افراد کو استعمال کر رہا تھا۔
ایف آئی اے نے اس مقدمے میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ اسلام آباد میں آٹھ کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت کی دو جائیدادوں کی منتقلی منجمد کرنے کے ساتھ تین گاڑیاں بھی ضبط کی گئی ہیں۔
تحقیقاتی حکام کو شبہ ہے کہ یہ جائیدادیں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری سے حاصل ہونے والی آمدن سے خریدی گئی تھیں۔
حکام کے سامنے فوری چیلنج یہ معلوم کرنا ہے کہ مبینہ نیٹ ورک میں کون کون ملوث تھا اور آیا کسی طبی ادارے یا متعلقہ پیشہ ور نے جان بوجھ کر اس غیر قانونی کاروبار کو سہولت فراہم کی۔
تاہم اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ معاشی مجبوری اور مالی بے بسی کو منافع کمانے کا ذریعہ بننے سے کیسے روکا جائے۔




