کراچی: سائبر کرائم تفتیش کاروں نے ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ بین الاقوامی آن لائن استحصالی نیٹ ورک سے بچالیا ہے، جو حکام کے مطابق اسے بلیک میل کرکے جانور اور خود کو نقصان پہنچانے پر مجبور کررہا تھا۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے بیرون ملک ایک ادارے کی فراہم کردہ معلومات پر کارروائی کی۔ جیو نیوز کے مطابق پاکستانی انٹرنیٹ کنکشن کا سراغ لگانے والے تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ اس سے وابستہ فرد مشتبہ ملزم کے بجائے دھمکیوں کا سامنا کرنے والی بچی ہے۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے عرب نیوز سے گفتگو میں مبینہ نیٹ ورک کی شناخت ’’764‘‘ کے نام سے کی۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی محفوظ ہے، جبکہ ڈیجیٹل شواہد اور پاکستان میں ممکنہ طور پر نشانہ بننے والے دیگر بچوں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
رابطہ بلیک میلنگ میں کیسے بدلا؟
طارق نواز کے مطابق ابتدائی رابطہ آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔ ملزمان نے تصاویر حاصل کرنے کے بعد انہیں افشا کرنے کی دھمکیوں سے لڑکی پر دباؤ بڑھایا اور نقصان دہ مطالبات کرنے لگے۔
حکام کے مطابق لڑکی کو پالتو بلی ہلاک کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کے بعد تفتیش کاروں نے مداخلت کرکے مزید نقصان روکا۔ جیو نیوز کے مطابق اہل خانہ نے اس کے رویے میں تبدیلی محسوس کی تھی، لیکن اسے آن لائن سرگرمیوں سے نہیں جوڑ سکے تھے۔
یہ تفصیلات ایسے استحصال کا طریقہ واضح کرتی ہیں جس میں ابتدائی رابطے کے دوران حاصل کردہ مواد دباؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہر نئے مطالبے کے ساتھ متاثرہ فرد کا معلومات سامنے آنے کا خوف بڑھایا جاتا ہے۔
764 کیا ہے؟
امریکی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی، 764 اور اس سے متعلق گروہوں کو پُرتشدد آن لائن نیٹ ورکس قرار دیتا ہے، جو بچوں اور دیگر غیر محفوظ افراد کا استحصال کرتے ہیں۔
ادارے کے مطابق دھمکیوں، بلیک میلنگ اور نفسیاتی دباؤ سے متاثرین کو نقصان دہ مواد بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پھر اسی مواد کو پھیلا کر ان پر کنٹرول برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
مئی میں جاری ایک انتباہ میں ایف بی آئی نے بتایا تھا کہ ایسے افراد اکثر عام گیمز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دوست بن کر رابطہ کرتے ہیں۔
ڈارک ویب کی اصطلاح سمجھنا کیوں ضروری ہے؟
بعض رپورٹس میں مبینہ ڈارک ویب تعلق کا ذکر ہے۔ ڈارک ویب سے مراد جان بوجھ کر پوشیدہ رکھی گئی آن لائن سروسز ہیں، جن تک عموماً خصوصی سافٹ ویئر سے رسائی ہوتی ہے۔ ہر نجی چیٹ یا سرچ میں نظر نہ آنے والا صفحہ ڈارک ویب نہیں ہوتا۔
اس معاملے میں ابتدائی رابطہ عام آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے کی اطلاع ہے۔ اسے صرف ڈارک ویب کا واقعہ کہنا اس اہم پہلو کو پس منظر میں دھکیل سکتا ہے کہ بچوں تک رسائی روزمرہ استعمال کی ایپس سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔
طارق نواز کے مطابق ڈیجیٹل فارنزک تحقیقات جاری ہیں۔ متعلقہ اکاؤنٹس چلانے والوں کی شناخت، ان کے مقامات اور دیگر ممکنہ متاثرین کا سراغ لگانا تفتیش کے اہم حصے ہیں۔




