اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لائبہ اعجاز کے اہل خانہ کو مبینہ تعلیمی فراڈ میں بازیاب ہونے والی تقریباً 50 لاکھ روپے کی رقم واپس کردی ہے، جبکہ داخلے، اسکالرشپ اور امریکی ویزے کے وعدوں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
نقوی نے بدھ کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ساتھ خاندان کی جی ٹین رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق لائبہ کے والد نے بازیاب رقم وصول کرنے کی تصدیق کی۔ آج نیوز نے رقم 51 لاکھ روپے بتائی اور کہا کہ نقوی نے باقی رقم کی وصولی کی کوششیں جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
یہ تحقیقات کے دوران بازیاب رقم کی واپسی ہے، کسی اعلان کردہ معاوضے یا ذاتی عطیے کی ادائیگی نہیں۔
وزیر داخلہ نے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مقدمے میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر، پولیس سربراہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ لائبہ کے والد نے تعاون پر وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ لائبہ امریکا میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ایک تعلیمی مشیر نے بھاری رقم وصول کرنے کے بعد داخلے اور اسکالرشپ کی جعلی دستاویزات فراہم کیں۔
ایف آئی اے نے مبینہ دھوکا دہی پر محمد نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پہلے عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ میں ویزے اور اسکالرشپ کے انتظامات کے لیے مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کرنے کا ذکر آیا تھا۔ یہ رقم بازیاب کرکے واپس کی گئی رقم سے الگ ہے۔
وزیر داخلہ کے دورے سے ایک روز قبل نعمان اسلام آباد میں مبینہ مقابلے کے بعد ہلاک ہوگیا تھا۔
پولیس کے مطابق اسے شواہد کی برآمدگی کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ مسلح افراد نے ٹیم پر حملہ کردیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ نعمان حملہ آوروں کی فائرنگ سے زخمی ہوا اور بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ یہ حالات پولیس کا مؤقف ہیں، آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
لائبہ کی موت کو خودکشی رپورٹ کیا گیا ہے۔ اہل خانہ نے مبینہ فراڈ سے متعلق شدید ذہنی اذیت بیان کی، تاہم اسے ان کی موت کی مکمل طبی وضاحت نہیں سمجھنا چاہیے۔
رقم کی واپسی خاندان کے نقصان کے ایک پہلو کا ازالہ کرتی ہے۔ دیگر ملزمان کے کردار، باقی رقم کی تلاش اور نعمان کی ہلاکت کے حالات کی جانچ الگ سوالات ہیں۔




