اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے بدھ کو آئندہ دو برس میں باہمی تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزو کی موجودگی میں مختلف شعبوں میں تعاون کے 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
یہ پیش رفت مالدیپ کے صدر کے 20 سے 22 اکتوبر تک جاری سرکاری دورے کے دوران ہوئی۔ 11 برس بعد کسی مالدیپی صدر کا دورہ پاکستان ایسے موقع پر ہورہا ہے جب دونوں ممالک 26 جولائی 1966 کو قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔
معاہدوں کے تبادلے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ ایک کروڑ 39 لاکھ ڈالر کی تجارت دونوں ممالک کی اقتصادی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ نئے ہدف کے حصول کے لیے تجارت کو موجودہ سطح سے 14 گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔
صدر معزو نے ہدف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری، سیاحت اور تجارتی روابط کے ذریعے تعلقات کے فوائد دونوں ممالک کے عوام تک پہنچنے چاہییں۔
معاہدوں میں صحت، تعلیم، فنی تربیت، زراعت، ماہی گیری، سیاحت، شہری ہوا بازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، پولیس، دفاع اور بحری سلامتی سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
تجارتی ہدف کے ساتھ ساتھ دونوں رہنماؤں نے آمدورفت اور کاروباری رابطوں کو بھی ترجیح دی۔ پاکستانی حکومت کے اعلامیے کے مطابق فضائی و بحری روابط بہتر بنانے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس جلد بلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ پاکستان نے حکومتی انتظامات کے ذریعے ضروری غذائی اشیا اور ادویات فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔
صدر معزو نے کہا کہ براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے حلال اور مسلم سیاحوں کی ضروریات کے مطابق سیاحت میں تعاون کے امکانات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق 22 اکتوبر کو طے شدہ مشترکہ کاروباری فورم سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو رابطوں کا موقع فراہم کرے گا۔ تاہم براہ راست پروازوں کے آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تعلیم اور صحت دونوں ممالک کے تعلقات کے اہم شعبے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ تقریباً 250 پاکستانی ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مالدیپ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید ماہرین فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔
پاکستان نے مالدیپی طلبہ کے لیے ہر سال 20 اضافی انڈرگریجویٹ وظائف کا اعلان بھی کیا۔ صدر معزو کے مطابق پاکستان ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت طبی تعلیم کے مواقع بڑھانے اور مالدیپ کے میڈیکل گریجویٹس کے لیے پاکستان میں انٹرن شپ کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔
ماحولیاتی تعاون کے تحت پاکستان مالدیپ کی 50 لاکھ درخت لگانے کی مہم کے لیے زیتون کی ایک لاکھ قلمیں اور مختلف پودوں کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔
شہباز شریف نے ڈیٹا سینٹرز کے شعبے میں بھی پاکستان کی تکنیکی مہارت اور تجربہ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
علاقائی امور پر دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت دہرائی۔ وزیراعظم نے صدر معزو کو مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے مؤقف اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کے اعلان پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر لازم معاہدوں کا احترام ضروری ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ وزیراعظم نے پانی کو پاکستان کی سرخ لکیر قرار دینے کا مؤقف بھی دہرایا۔
صدر معزو نے جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون، سارک، کو فعال بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ تنظیم کے جلد سربراہی اجلاس کے لیے رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔
دورے کے دوران بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے صدر معزو کو سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی۔
دونوں رہنماؤں نے معاہدوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ شہباز شریف نے ان پر پیش رفت کے لیے ذاتی طور پر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا، جبکہ صدر معزو نے کہا کہ اگلا مرحلہ ان مفاہمتوں کو عوام کے لیے حقیقی مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔





