اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) منتخب کنوؤں سے حاصل ہونے والے پانی میں لیتھیم اور دیگر اہم معدنی عناصر کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنسٹیک) کے ساتھ معاہدے کا اعلان ستمبر میں کیا گیا تھا۔
کمپنی کے 28 ستمبر کے سرکاری اعلان کے مطابق تیل و گیس کی پیداوار کے ساتھ نکلنے والے پانی اور نمکین زیرزمین پانی کے 2000 سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق جانچ میں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، قیمتی دھاتوں اور تابکار عناصر کی مقدار معلوم کی جائے گی۔ نتائج سے کنوؤں کی درجہ بندی اور مختلف علاقوں میں معدنی مقدار کا نقشہ تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
کمپنی نے بتایا کہ واحد بخش 01 کنویں میں ابتدائی تحقیق کے دوران گرم نمکین زیرزمین پانی میں لیتھیم کی مقدار 291 ملی گرام فی لیٹر ملی تھی۔ یہ پانی میں لیتھیم کی مقدار ہے، قابل استخراج ذخائر کے حجم کا تخمینہ نہیں۔
تحقیق سے براہ راست لیتھیم اخذ کرنے کی ٹیکنالوجی کے امکانات جانچے جائیں گے، جس میں معدنیات والے پانی سے لیتھیم الگ کیا جاتا ہے۔ کمپنی اسے تیل و گیس کے علاوہ نئے وسائل کی تلاش کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتی ہے۔
سرکاری اعلان میں تمام نمونوں کی جانچ مکمل ہونے، تجارتی طور پر قابل استخراج ذخائر ثابت ہونے یا لیتھیم کی پیداوار شروع ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔





