غزہ: تین سالہ مریم احمد غانم اپنے گھر کو لپیٹ میں لینے والے شعلوں سے بچ گئی، لیکن اس کی والدہ زندہ نہ نکل سکیں۔
مقامی رپورٹس اور بچی کو بچانے والے صحافی کے مطابق 14 اکتوبر کی صبح مغربی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک رہائشی فلیٹ میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے اندر مریم پھنس گئی تھی۔
الشفا اسپتال کے ایک طبی ذریعے نے انادولو کو بتایا کہ الرمال کے علاقے میں رہائشی عمارت پر حملے کے بعد 33 سالہ ریم اسعد عوض کی لاش اور دو زخمیوں کو اسپتال لایا گیا۔ حملے سے فلیٹ اور آس پاس کی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ آگ سول ڈیفنس کے عملے نے بجھائی۔
فلسطینی صحافی علی الجعفراوی نے کہا کہ وہ الشفا اسپتال میں موجود تھے جب انہوں نے طیارے اور پھر دھماکے کی آواز سنی۔ وہ آواز کا تعاقب کرتے ہوئے النصر اسٹریٹ پر واقع الامین عمارت پہنچے، جہاں اس وقت تک ایمبولینس کا عملہ نہیں پہنچا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جلتے فلیٹ سے بچی کے چیخنے کی آواز آئی تو وہ اندر داخل ہوئے اور مریم کو اٹھا کر باہر لے آئے۔ بچی کو وہاں موجود افراد کے حوالے کیا گیا تاکہ اسے طبی امداد کے لیے لے جایا جا سکے۔
الجعفراوی کے مطابق وہ دوسرے افراد کو تلاش کرنے کے لیے دوبارہ اندر گئے، لیکن شدید دھوئیں سے بے ہوش ہوگئے۔ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ مریم کے والد جنگ کے آغاز میں مارے جا چکے تھے، جبکہ اس حملے نے اس کی والدہ کی جان بھی لے لی۔
امریکی مسلم شہری حقوق کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی قانون سازوں سے اسرائیلی فوجی مہم کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ حملہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود ہوا۔ مریم کی جان بچ گئی، لیکن صحافی کے بیان کے مطابق اب اسے ماں اور باپ دونوں کے بغیر زندگی گزارنا ہوگی۔





