اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مجوزہ پالیسی میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایل پی جی کی فراہمی میں کمی اور گھریلو سلنڈروں کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ بڑھنے کے بعد کیا گیا ہے۔
ہفتے کو شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق کمیٹی ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کی جانب سے وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی مجوزہ اصلاحات پر اعتراضات کے بعد تشکیل دی گئی۔
ایل پی جی کمپنیوں اور ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی تیار کرتے وقت متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔
مجوزہ پالیسی کے تحت سرکاری اداروں کو ایل پی جی درآمد کرنے اور اس کی ماہانہ قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دیا جائے گا، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا موجودہ کردار ختم ہو جائے گا۔
تاہم یہ تجاویز ابھی زیرِ غور ہیں اور ان پر عمل درآمد شروع نہیں ہوا۔
ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 7200 روپے تک پہنچ گئی
درآمدات اور سپلائی کے راستوں میں رکاوٹوں کے باعث ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 11.57 کلوگرام وزنی گھریلو ایل پی جی سلنڈر مارکیٹ میں 6000 سے 7200 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت 3296 روپے ہے۔
اس طرح بعض علاقوں میں صارفین کو ایک سلنڈر کی خریداری پر سرکاری نرخ سے 3904 روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
اکتوبر کے آغاز میں پاکستان اور ایران کی سرحد پر تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد ایل پی جی کی فراہمی مزید متاثر ہوئی، جبکہ سمندری راستوں سے درآمدات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایل پی جی کی قلت کے باعث ان گھرانوں اور کاروباری اداروں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں جو کھانا پکانے اور توانائی کی دیگر ضروریات کے لیے اس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔
ایل پی جی کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار اوگرا سے واپس لینے کی تجویز
پیٹرولیم ڈویژن کی مجوزہ اصلاحات کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، سوئی گیس کمپنیاں، پارکو اور پاکستان ایل این جی سمیت سرکاری اداروں کو ایل پی جی کی درآمد اور قیمتوں کے تعین میں زیادہ کردار دیا جائے گا۔
مجوزہ پالیسی میں قیمتوں پر ماہانہ نظرثانی کا نظام برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم قیمتیں مقرر کرنے کی ذمہ داری اوگرا سے سرکاری اداروں کو منتقل کر دی جائے گی۔
پیٹرولیم ڈویژن نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اوگرا مقامی طور پر تیار ہونے والی اور درآمدی ایل پی جی، دونوں کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کرنا بند کر دے۔
آٹھ رکنی کمیٹی کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
نئی تشکیل دی گئی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیرِ پیٹرولیم کریں گے۔
کمیٹی کے دیگر ارکان میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور، وفاقی وزیرِ اطلاعات، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ، معاونِ خصوصی برائے توانائی، سیکریٹری پیٹرولیم، ڈائریکٹر جنرل لیکویفائیڈ گیسز اور گورنمنٹ ریلیشنز یونٹ کے سربراہ شامل ہیں۔
کمیٹی کو مجوزہ ایل پی جی اصلاحات، سلنڈروں کے معیارات یا ملک میں ایل پی جی کی فراہمی کے نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت نہیں کی گئی۔
تاہم کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنی جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنا ہوگی۔
کم آمدنی والے صارفین کے لیے سبسڈی کی تجویز
مجوزہ منصوبے کے تحت ایل پی جی کی مقررہ پیداواری قیمت اور درآمدی قیمت سے منسلک نرخ کے درمیان فرق کی رقم ایک خصوصی فنڈ میں جمع کرائی جائے گی۔
حکومت اس فنڈ کے ذریعے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت اہل کم آمدنی والے گھرانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گی۔
مجوزہ اصلاحات میں ایل پی جی مارکیٹنگ اور درآمدی کمپنیوں کے کم از کم منافع کے مارجن کو 35 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے فی ٹن کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ اضافہ مہنگائی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز کیا گیا ہے، کیونکہ ایل پی جی کمپنیوں کے منافع کے مارجن 2016 کی پالیسی کے بعد سے تبدیل نہیں کیے گئے۔





