پیرس: فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران ہفتہ، 17 اکتوبر کو لوئی ویٹون، ہرمیز اور ایپل کے اسٹورز میں مبینہ طور پر لوٹ مار کی گئی۔ ملک بھر میں پھیلنے والے مظاہروں کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پیرس، مارسیل، لیون، بورڈو اور لیل میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جہاں مظاہرین نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، سرکاری اخراجات اور تعلیمی اداروں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
اگرچہ متعدد مظاہرے پُرامن رہے، تاہم بعض گروہوں نے دکانوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور سامان لوٹ لیا۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران مہنگی مصنوعات فروخت کرنے والے اسٹورز، الیکٹرانکس کی دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق نقاب پوش افراد نے دکانوں کے شیشے توڑے اور کاروباری عمارتوں میں داخل ہوئے، جبکہ کئی شہروں میں گاڑیوں اور سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
یہ بدامنی تعلیمی فنڈز اور عوامی خدمات کے حوالے سے کئی ہفتوں سے جاری طلبہ کے احتجاج کے بعد سامنے آئی۔ بعد ازاں مزدور یونینوں اور دیگر تنظیموں نے بھی حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران فرانسیسی پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ ہفتے کے اختتام تک بدامنی جاری رہنے کے دوران حکام نے 2,400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مہنگائی اور عوامی خدمات تک رسائی سے متعلق شہریوں کے تحفظات کو بھی تسلیم کیا۔
حکومت نے تشدد کے واقعات کی ذمہ داری ان گروہوں پر عائد کی جنہیں اس نے انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر قرار دیا۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے مظاہروں سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات اور احتجاج کے پس منظر میں موجود معاشی حالات پر تنقید کی۔
اتوار کو کاروباری اداروں نے نقصانات کا تخمینہ لگانا شروع کردیا، جبکہ متاثرہ تجارتی علاقوں میں کارکنوں نے ٹوٹے ہوئے شیشے اور ملبہ ہٹانے کا کام کیا۔
دکانداروں اور کاروباری اداروں نے سامان کی چوری، عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل کے باعث مالی نقصانات کی اطلاع دی۔
ان واقعات کے بعد کاروباری مالکان میں سکیورٹی کی صورتحال اور بدامنی کے معاشی اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
فرانسیسی حکام تشدد اور لوٹ مار کے واقعات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت کو مظاہروں کے پس منظر میں موجود معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے مطالبات کا سامنا ہے۔





