لاہور: فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم آئی کیو ایئر (IQAir) کے مطابق جمعے کی صبح لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 167 تک پہنچ گیا، جس کے بعد یہ دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا۔
اس سطح پر لاہور کی فضائی کیفیت کو ’غیر صحت بخش‘ قرار دیا گیا۔ ڈھاکا 164 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے جبکہ قاہرہ 158 کے ساتھ اس کے بعد رہا۔ آئی کیو ایئر کی درجہ بندی ہر گھنٹے اپ ڈیٹ ہوتی ہے، اس لیے دن کے بعد کے اوقات میں لاہور کی پوزیشن اور اے کیو آئی میں تبدیلی آئی۔
جمعے کی صبح جاری کی گئی آئی کیو ایئر کی 125 شہروں کی عالمی درجہ بندی میں کراچی شامل ہونے والا پاکستان کا واحد دوسرا شہر تھا، جو 69 اے کیو آئی کے ساتھ 34ویں نمبر پر رہا۔
آئی کیو ایئر کے مطابق رپورٹنگ کے وقت لاہور میں پی ایم 2.5 کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی سالانہ رہنما حد سے 15.2 گنا زیادہ تھی۔ پی ایم 2.5 سے مراد ہوا میں موجود 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے کم قطر کے باریک ذرات ہیں۔
حالیہ برسوں میں لاہور کو فضائی آلودگی اور اسموگ کا سامنا رہا ہے، خصوصاً سردیوں کے دوران۔ صنعتی اخراج، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا اور موسمی حالات شہر میں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
جمعے کو لاہور میں سینئر افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اسموگ میں کمی آئی ہے، تاہم یہ مسئلہ اب بھی موجود ہے۔
رواں سال جنوری میں بھی لاہور آئی کیو ایئر کی دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آیا تھا، جب شہر کا اے کیو آئی 452 ریکارڈ کیا گیا تھا۔






