اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کو اپوزیشن کے شدید احتجاج اور گرما گرم بحث کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دے دی۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبائی حکومت پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ اقدامات کیے تھے، جن کے نتیجے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت غیر فعال ہوگئی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت الگ الگ قراردادیں پیش کیں۔ اس سے قبل ایوان نے 56 کے مقابلے میں 214 ووٹوں سے قواعد معطل کرنے کی تحریک منظور کی، جس کے بعد قراردادیں پیش کرنے کی اجازت ملی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم کوئی راستہ نہ نکلنے پر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز بھی دی گئی تھی، لیکن اس پر حتمی اتفاق نہیں ہوسکا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بارہا دہشت گردی کے خلاف تعاون کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے گورنر راج کے نفاذ کو آئینی تقاضوں کے مطابق قرار دیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم سے معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی اور کہا کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بارے میں سوال اٹھایا اور موجودہ بحران کو حکمرانوں کے غلط فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے گورنر راج کی آئینی بنیاد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے فیصلے کے حق میں دستاویزی شواہد یا گورنر کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے آئینی بالادستی پر اپنی جماعت کے مؤقف کا اعادہ کیا اور اپوزیشن کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ حکومتی وفد نے مذاکرات ادھورے چھوڑ دیے تھے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ بدھ کو الگ الگ اجلاسوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر چکے تھے۔
آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج پارلیمانی نگرانی سے مشروط ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے۔
اس فیصلے کے بعد وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ صوبائی خودمختاری، انسداد دہشت گردی میں تعاون اور منتخب حکومت کی بحالی سے متعلق سوالات بدستور برقرار ہیں۔





