اسلام آباد: قومی اسمبلی نے بدھ کو حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی بحث کے بعد خیبرپختونخوا میں صدر آصف علی زرداری کے 11 اکتوبر کے اعلان ایمرجنسی کی اکثریتی ووٹ سے توثیق کر دی۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل ہونے کے بعد قرارداد پیش کی۔ اپوزیشن ارکان نے بحث میں حصہ لیا، تاہم گزشتہ اجلاسوں کے برعکس شور شرابا نہیں کیا۔
قرارداد میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دی گئی۔ سینیٹ کی توثیق ابھی باقی ہے۔
گورنر راج کا الگ اعلان آرٹیکل 234 کے تحت کیا گیا ہے، جسے دو ماہ سے آگے بڑھانے کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری درکار ہوگی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی بدامنی، سرحد پار دراندازی اور دہشت گردی کے خلاف صوبائی سطح پر تعاون میں کمی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 سے نو اکتوبر 2026 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 3787 واقعات ہوئے، جبکہ 2021 سے 2024 کے دوران یہ تعداد 2911 تھی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایمرجنسی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کی مخالف ہے اور نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کارروائی چاہتی ہے۔
انہوں نے پارٹی ارکان کی گرفتاریوں پر سوال اٹھائے اور سابقہ مذاکرات سے متعلق حکومتی مؤقف سے اختلاف کیا۔ گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی صوبائی پولیس قانون میں تبدیلی پر آمادہ تھی۔ انہوں نے مذاکرات جاری رکھنے کی تجویز کا خیرمقدم بھی کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے بحران کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت پر بھی عائد کی، تاہم کہا کہ ایمرجنسی غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے مذاکرات اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومتی اتحاد کے انتخابی مینڈیٹ پر سوال اٹھایا۔ اسپیکر ایاز صادق نے تین اکتوبر کے مذاکرات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے ضرورت پڑنے پر مذاکراتی کمیٹیاں بحال کرنے کی حمایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس کے کچھ حصے میں شریک ہوئے۔ ایوان کا اگلا اجلاس 16 اکتوبر کو صبح 11 بجے ہوگا۔





