کراچی: رہائشیوں اور ماہرین ماحولیات نے اتوار کو کلفٹن میں نہر خیام پر جاری تعمیرات کے خلاف احتجاج کیا اور کام فوری روکنے اور منصوبے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے تعمیرات کو آبی گزرگاہ کے ساتھ تجارتی ترقی کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے نکاسی آب، عوامی جگہوں اور ماحولیاتی اثرات پر تشویش ظاہر کی۔
احتجاج میں کلفٹن بلاک پانچ ریذیڈنٹس ایسوسی ایشن، کلفٹن ڈیفنس کمیونٹی اور کراچی ریذیڈنٹس کمیونٹی کے ارکان شریک ہوئے۔
مقامی رہائشی حما احمد نے کہا کہ تعمیراتی کام کی وضاحت کرنے والا کوئی عوامی معلوماتی بورڈ موجود نہیں۔ انہوں نے منظور شدہ نقشے، زمین کی حدود، ماحولیاتی جائزے، ٹھیکے، اخراجات اور سندھ کے ادارہ تحفظ ماحولیات کے فیصلے جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کے مطابق منصوبے کا اعلان 50 کروڑ روپے کی لاگت سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے منظور شدہ بجٹ، فنڈز کے ذرائع، ٹھیکیداروں، ادائیگیوں اور حقیقی اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔
انہوں نے مزید کام سے پہلے نکاسی آب اور ماحول پر اثرات کا آزادانہ جائزہ اور مؤثر عوامی مشاورت کا مطالبہ کیا۔
رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نہر کو تنگ کرنے یا اس کی ساخت بدلنے سے بارش کا پانی گزارنے کی گنجائش کم ہوسکتی ہے۔ بعض افراد نے کہا کہ انہوں نے یہاں فوڈ اسٹریٹ بنانے کے بارے میں سنا ہے، جس سے ٹریفک، شور اور رش بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں شامل سرکاری جواب میں مجوزہ تجارتی استعمال کی تصدیق نہیں کی گئی۔
کلفٹن اربن فاریسٹ کے بانی مسعود لوہار نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ اوبھایو لاگون کو گزری کریک سے ملاتی ہے اور سمندری ماحولیاتی نظام میں مداخلت سے گریز ضروری ہے۔
مظاہرین نے نہر کے کناروں اور عوامی کھلی جگہوں کے تحفظ، اور سمندر میں اخراج سے پہلے گندے پانی کی صفائی کا بھی مطالبہ کیا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ منصوبہ محکمہ بلدیات کے تحت جاری ہے اور اس کا کے ایم سی یا کراچی کے میئر سے تعلق نہیں۔ جواب میں منصوبے کے نقشے یا ماحولیاتی اثرات سے متعلق خدشات کا ذکر نہیں کیا گیا۔





