رام اللہ: فلسطینی قیدیوں کی تنظیم فلسطین پرزنرز سوسائٹی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے اکتوبر 2023 سے مقبوضہ مغربی کنارے اور یروشلم میں دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا ہے۔
تنظیم نے 14 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ کم از کم 350 بچے اب بھی حراست میں ہیں۔ غزہ میں گرفتار بچوں سے متعلق معلومات نامکمل ہونے کے باعث یہ تعداد وہاں کی گرفتاریوں کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔
بیان کے مطابق تازہ کارروائیوں میں کم از کم چھ بچوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں زیادہ تر گرفتاریاں الخلیل کے قصبوں سعیر اور الشیوخ میں ہوئیں۔
تنظیم نے کہا کہ بچوں کو گرفتاری، تفتیش اور قید کے دوران خوف زدہ کرنے، تشدد، خوراک سے محرومی، تنہائی اور طبی امداد نہ ملنے جیسے حالات کا سامنا ہے۔ حراست انہیں خاندانی نگہداشت اور تعلیم سے بھی دور کرتی ہے، جبکہ انتظامی حراست میں بعض بچے بغیر الزام یا مقدمے کے قید رہتے ہیں اور ان کی مدتِ حراست بار بار بڑھائی جا سکتی ہے۔
یونیسیف بھی ان حالات پر تشویش ظاہر کر چکا ہے۔ اگست میں سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ادارے نے اسرائیلی جیل سروس کے اعدادوشمار کے حوالے سے کہا تھا کہ 355 فلسطینی بچے فوجی حراست میں تھے، جن میں 164 بغیر الزام یا مقدمے کے انتظامی حراست میں رکھے گئے تھے۔
ادارے نے تشدد، تذلیل، ناکافی خوراک، صفائی کی خراب صورتِ حال، وزن میں شدید کمی اور خارش کی بیماری کی شکایات کا ذکر کرتے ہوئے بچوں کی انتظامی حراست ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ پہلے کی صورتِ حال کے اعدادوشمار ہیں، اضافی گرفتار بچوں کی تعداد نہیں۔
بین الاقوامی اصولوں کے تحت بچے کی حراست قانونی، آخری چارہ اور کم سے کم مناسب مدت کے لیے ہونی چاہیے۔ اسے فوری قانونی مدد اور حراست کو چیلنج کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔
فلسطینی تنظیم نے من مانی گرفتاریوں کا شکار بچوں کی رہائی، مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات اور اہلِ خانہ، وکلا اور نگرانی کرنے والے اداروں کی رسائی کا مطالبہ کیا۔





