اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے G20 ممالک سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج فوری کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش موسمیاتی تباہی ایک گہری عالمی ناانصافی کی عکاسی کرتی ہے۔
دورۂ پاکستان کے دوران سوشل میڈیا پر جاری بیان میں گوتریس نے کہا کہ عالمی اخراج میں انتہائی معمولی حصہ رکھنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی بحران کی اگلی صف میں کھڑا ہے۔
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تجربہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے دنیا کے سامنے ایک گہری ناانصافی واضح کردی تھی۔
پاکستان کی موسمیاتی خطرات کے سامنے حساسیت 2022 کے سیلاب میں واضح ہوئی، جن سے تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر اور 1730 سے زیادہ جاں بحق ہوئے۔
حکومت کی قیادت میں بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے کیے گئے جائزے میں املاک اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 14.9 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ، جبکہ معاشی خسارے کا تخمینہ تقریباً 15.2 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا۔ گھروں، کھیتوں، سڑکوں اور بنیادی خدمات کی تباہی نے روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی متاثر کی۔
اس آفت نے واضح کیا کہ شدید موسمیاتی واقعات غربت بڑھانے کے ساتھ پہلے سے مالی دباؤ کا شکار ملک پر تعمیر نو کا بھاری بوجھ ڈال سکتے ہیں۔
گوتریس نے کہا کہ G20 ممالک عالمی اخراج کے 80 فیصد کے ذمہ دار ہیں اور انہیں اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اخراج فوری کم کرنا چاہیے۔
ان کے بیان میں بڑے اخراج کرنے والے ممالک کی ذمہ داری اجاگر کی گئی اور اس فرق کی نشاندہی کی گئی کہ موسمیاتی تبدیلی میں کس کا کتنا حصہ ہے اور اس کے نتائج کون بھگت رہا ہے۔
انہوں نے موجودہ وعدوں پر عمل درآمد اور اخراج میں تیز کمی پر زور دیا۔





